
امریکہ میں علاج معالجہ بہت مہنگا ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے علاج کے لیے ہیلتھ انشورنس کا سہارا لیتے ہیں، یعنی وہ اپنی ہیلتھ انشورنس کروالیتے ہیں اور علاج کی ضرورت پیش آنے کی صورت میں ڈاکٹر کو معاوضہ انشورنس ادا کرتی ہے،اب مسئلہ یہ ہے کہ جب مریض کسی ڈاکٹر سے appointment(وقت ) لینے کے لیے کال کرتا ہے تو ڈاکٹر کے لیے جاننا ضروری ہوتا ہے کہ مریض کسی انشورنس کمپنی سے انشورڈ ہے،اس کی انشورنس پالیسی کا سٹیٹس کیا ہے،سٹیٹس سے مراد یہ ہے کہ آنکھ کا ڈاکٹر اس تحقیق کے بغیر ہی کسی مریض کا چیک اپ کردے اور بعد میں انشورنس کمپنی سے معاوضہ claim(مطالبہ کرنا) کروائے تو انشورنس کمپنی جواب میں کہے کہ اس شخص کی پالیسی میں آنکھ کے علاج کی انشورنس ہے ہی نہیں تو ڈاکٹر کو علاج کا معاوضہ نہیں ملے گا،لہذا ڈاکٹر کو یہ تمام تحقیق علاج شروع کرنےسے پہلے کرنی ہوتی ہے،اب ڈاکٹر اس جھنجھٹ سےبچنے کے لیے یہ کام خودکرنے کے بجائے کسی کمپنی یا فرد کے حوالے کردیتا ہے،یہ کمپنی ڈاکٹر کے لیے مندرجہ ذیل امور سرانجام دیتی ہے۔
1۔مریض ڈاکٹر کے انشورنس سٹیٹس کے متعلق ڈاکٹر کو آگاہ کرتی ہے اور MAKE SURE(مطمئن) کرتی ہے کہ مریض کا علاج کرنے کی صورت میں انشورنس کمپنی علاج پر آنے والا خرچہ ادا کرنے کی پابند ہے۔
2۔علاج پر آنے والے اخراجات کا بل ڈاکٹر کے BEHALF(واسطے) پر انشورنس کمپنی کو بھجواتی ہے، اس طرح کی کمپنی کو میڈیکل بلنگ کمپنی کہا جاتا ہے،اب انشورنس کمپنی بل وصول ہونے کے بعد ڈاکٹر کو علاج کا معاوضہ ادا کرتی ہے اور ڈاکٹر اس معاوضے میں سے طے شدہ تناسب سے یعنی 2 یا 3 فیصد رقم میڈیکل بلنگ کمپنی کو ادا کرتا ہے،میڈیکل بلنگ کی یہ کمپنیاں عموماً پسماندہ ممالک مثلاً بنگلہ دیش،پاکستان اور سری لنکا جیسے ممالک میں بیٹھ کر کام کرتی ہیں،اب سوال یہ ہے کہ ان میڈیکل بلنگ کمپنیوں کے کام کی شرعی حیثیت سے کیاہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر بلنگ کمپنی صرف ڈاکٹر کا ملازم ومعاون ہے، انشورنس کمپنی کا نہیں، اور اس کا کام صرف ڈاکٹر کی جانب سے میڈیکل انشورنس کمپنی کو مریض کے علاج سے متعلق معلومات دینا ہے، انشورنس کی لین دین سے بلنگ کمپنی کا کوئی تعلق نہیں، تو ڈاکٹر کے ملازم ومعاون کے طور پر مذکورہ کام کرنا شرعاً جائز ہے اور اس سے ملنے والی اجرت حلال ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء."
(كتاب الإجارة، ج: 6، ص: 4، ط: سعید)
مجلۃ الأحکام العدلیہ میں ہے:
"تجوز إجارة الآدمي للخدمة أو لإجراء صنعة ببيان مدة أو بتعيين العمل بصورة أخرى."
(الكتاب الثاني، الباب السادس، الفصل الرابع، ص: 105، ط: كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144603101537
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن