بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بلی یا کسی جانور کو سدھانے کے لیے معمولی مار مارنا


سوال

اپنے گھر میں بہت سی بلیاں پال رکھی ہیں، اور عموماً جو پالتو بلیاں ہوتی ہیں وہ کھانے کو گرا کر نہیں کھاتیں، اور نہ ہی کھانا کھاتے وقت حملہ کرتی ہیں، ان بلیوں کی جو نئی نسل پیدا ہوتی ہے ان کو اس کی ٹریننگ دی جاتی ہے، اور عموما ٹریننگ مار مار کر دی جاتی ہے، کیونکہ یہ ہماری زبان سمجھ نہیں سکتیں، تو جب ان کو کسی چیز پر مار پڑتی ہے تو یہ سمجھ جاتی ہیں کہ انہوں نے وہ چیز نہیں کرنی ہے۔ تو کیا ان کو سدھانے کے لیے مارا جا سکتا ہے؟ یہاں پر بات جان سے مارنے کی نہیں ہو رہی، بلکہ تھپڑ وغیرہ   سےمارنا مرادہے،تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ نے جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا حکم دیا ہے،  کسی بھی جاندار کو بلاوجہ ایذاء اور تکلیف دینا شرعاً ممنوع ہے، یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ  کا گزر ایک ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا جس کی کمزوری اور بھوک کی وجہ سےپیٹھ پیٹ سے جا لگی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا:" ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو؛انہیں اس حال میں سواری کے لیے استعمال کرو جب یہ درست حالت میں ہوں "۔ نیز " حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سفر سے واپسی پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے اپنے گھر والوں کے پاس جلد پہنچو، میں اپنے اونٹ پر سوار تھا، جو تھکاوٹ کی وجہ سے ٹھہر گیا تھا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا:اے جابراسے سنبھالو! تو آنحضرتﷺ نے اسے کوڑے سے ضرب لگائی تو اونٹ اپنی جگہ سے چل پڑا "۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور  کو تعلیم اور سدھارنے کی غرض سے مارنے کی گنجائش ہے ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں بلی یا کسی بھی غیر موذی جانور کو تربیت اور سدھانے کے لیے ہلکا اور معمولی مارنا جائز ہے، البتہ چہرے پر مارنے کی یا شدید نوعیت کی مار کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي الزبير، عن جابر. قال:‌نهى ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم ‌عن ‌الضرب ‌في ‌الوجه، وعن الوسم في الوجه."

ترجمہ: حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا، اور چہرے پر داغ (نشان) لگانے سے منع فرمایا۔

(کتاب اللباس و الزینة، باب: النهي عن ضرب الحيوان في وجهه ووسمه فيه، ج:3، ص:1673، ط:دار إحياء التراث العربي)

صحیح بخاری میں ہے:

"حدثنا أبو المتوكل الناجي قال: أتيت جابر بن عبد الله الأنصاري فقلت له:حدثني بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: سافرت معه في بعض أسفاره، قال أبو عقيل: لا أدري غزوة أو عمرة، فلما أن أقبلنا، قال النبي صلى الله عليه وسلم: (‌من ‌أحب ‌أن ‌يتعجل ‌إلى ‌أهله ‌فليعجل). قال جابر: فأقبلنا وأنا على جمل لي أرمك، ليس فيه شية، والناس خلفي، فبينا أنا كذلك، إذ قام علي، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم: (يا جابر،استمسك).فضربه بسوطه ضربة فوثب البعير مكانه، فقال: (أتبيع الجمل). قلت: نعم، فلما قدمنا المدينة و دخل النبي صلى الله عليه وسلم المسجد في طوائف أصحابه، فدخلت إليه، وعقلت الجمل في ناحية البلاط، فقلت له: هذا جملك، فخرج فجعل يطيف بالجمل ويقول: (الجمل جملنا). فبعث النبي صلى الله عليه وسلم أواق من ذهب، فقال: (أعطوها جابرا). ثم قال: (استوفيت الثمن). قلت: نعم، قال: (الثمن والجمل لك)."

ترجمہ: "حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سفر سے واپسی پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے اپنے گھر والوں کے پاس جلد پہنچو، میں اپنے اونٹ پر سوار تھا، جو تھکاوٹ کی وجہ سے ٹھہر گیا تھا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا:اے جابراسے سنبھالو! تو آنحضرتﷺ نے اسے کوڑے سے ضرب لگائی تو اونٹ اپنی جگہ سے چل پڑا پھر آپ ﷺ نے فرمایا:"کیا تم یہ اونٹ بیچو گے؟"میں نے عرض کیا: جی ہاں۔پھر جب ہم مدینہ پہنچے اور نبی کریم ﷺ اپنے چند صحابہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے، تو میں بھی حاضر ہوا اور اونٹ کو مسجد کے ایک کونے میں باندھ دیا، پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ اونٹ حاضر ہے۔آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور اونٹ کے گرد گھومنے لگے اور فرماتے تھے:"اونٹ تو ہمارا ہی ہے۔"پھر نبی کریم ﷺ نے کچھ سونے کے سکے بھیجے اور فرمایا:"یہ جابر کو دے دو۔"پھر فرمایا:"کیا تم نے اپنی قیمت پوری وصول کر لی؟"میں نے عرض کیا: جی ہاں۔تو آپ ﷺ نے فرمایا:"قیمت بھی تمہاری ہے اور اونٹ بھی تمہارا ہی "۔

(کتاب الجھاد،  باب من ضرب دابة غيره فى الغزو، ج:1، ص:401، ط:قدیمی)

سنن ابو داؤد میں ہے:

عن سهل ابن الحنظلية، قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببعير قد لحق ظهره ببطنه، فقال: "اتقوا الله في هذه البهائم المعجمة، ‌فاركبوها ‌صالحة، ‌وكلوها ‌صالحة."

(اول کتاب الجھاد، باب ما يؤمر به من القيام على الدواب والبهائم، ج:4، ص:200، ط:دار الرسالة العالمية)

مظاہر ِ حق میں ہے :

ترجمہ : "حضرت سہل ابن حنظلیہ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ ایک اونٹ کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ (بھوک و پیاس کی شدت اور سواری و بار برداری کی زیادتی سے) اس کی پیٹھ پیٹ سے لگ گئی تھی آپ ﷺ نے فرمایا ” ان بے زبان چوپایوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور ان پر ایسی حالت میں سواری کرو، جب کہ وہ قوی اور سواری کے قابل ہوں اور ان کو اس اچھی حالت میں چھوڑ دو کہ وہ تھکے نہ ہوں۔ (ابوداؤد )

شرح صحيح البخارى لابن بطال میں ہے:

"وفيه دليل على جواز إيلام الحيوان، والحمل عليها بعض ما يشق بها؛ لأنه جاء فى بعض الحديث أنه كان أعيا، فإذا ضرب المعين فقد كلف ما يشق عليه."

(کتاب الجھاد،  باب من ضرب دابة غيره فى الغزو، ج:5، ص:65، ط:مكتبة الرشد)

فتح الباری میں ہے:

"قال ابن بطال ‌فيه ‌الحض ‌على ‌استعمال ‌الرحمة ‌لجميع ‌الخلق ‌فيدخل ‌المؤمن ‌والكافر ‌والبهائم ‌المملوك ‌منها ‌وغير ‌المملوك ويدخل في الرحمة التعاهد بالإطعام والسقي والتخفيف في الحمل وترك التعدي بالضرب."

( کتاب الادب، باب رحمة الناس والبهائم، ج:10، ص: 440، الناشر:دار المعرفة )

المنھاج شرح صحيح مسلم میں ہے:

"ففى ‌هذا ‌الحديث ‌الحث ‌على ‌الإحسان ‌إلى ‌الحيوان ‌المحترم وهو ما لا يؤمر بقتله فأما المأمور بقتله فيمتثل أمر الشرع في قتله والمأمور بقتله كالكافر الحربي والمرتد والكلب العقور والفواسق الخمس المذكورات في الحديث وما في معناهن وأما المحترم فيحصل الثواب بسقيه والإحسان إليه أيضا بإطعامه وغيره سواء كان مملوكا أو مباحا وسواء كان مملوكا له أو لغيره والله أعلم."

( کتاب قتل الحیات وغیرھا، باب فضل سقى البهائم المحترمة وإطعامها، ج:14، ص:241، ط:دار إحياء التراث العربي )

رد المحتارمیں ہے:

"وجاز ركوب الثور وتحميله والكراب على الحمير بلا جهد وضرب، إذ ظلم الدابة أشد من الذمي، وظلم الذمي أشد من المسلم."

"(بلا جهد وضرب) أي لا يحملها فوق طاقتها ولا يضرب وجهها ولا رأسها إجماعاً، ولا تضرب أصلاً عند أبي ح. وإن كانت ملکه قال رسول الله ﷺ : "تُضْرَبُ الدَوَّابُ عَلَى النَّفَارِ ولا تُضْرَبُ عَلَى العِثَارِ"، لأن العثار من سوء إمساك الركاب اللجام، والنفار من سوء خلق الدابة فتؤدب على ذلك."

(کتاب الحظر والاباحة، فصل فی البیع، ج:6، ص:402، ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"وأما ‌ضربة ‌دابة ‌نفسه فقال في القنية وعند أبي حنيفة لا يضربها أصلا ولو كانت ملكه وكذا حكم كل ما يستعمل من الحيوانات ثم قال لا يخاصم ضارب الحيوان فيما يحتاج إليه للتأديب ويخاصم فيما زاد عليه."

(کتاب الإجارة، ج:7، ص:309، ط: دار الکتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709102300

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں