بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بیلنس ختم ہو نے کی صورت میں ایڈوانس لینے کاحکم


سوال

موبائل میں اگر بیلنس ختم ہو جائے تو کیا کمپنی سےلون یا ایڈوانس لینا جائز ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں موبائل کمپنی سم میں ایڈوانس بیلنس حاصل کرنے کی صورت میں  کچھ رقم اضافی لیتی ہے، اگر یہ زائد رقم محض خدمت مہیا کرنے کے عوض وصول کرتی ہے (یعنی سروس چارجز کی مد میں زائد رقم لیتی ہے) تو موبائل کمپنی سے ایڈوانس بیلنس لینا جائز ہے،بیلنس ختم ہونے کے بعد بعض موبائل کمپنیاں جو مسیج بھیجتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی ایڈوانس کی سہولت دے کر  اس پر جو کچھ رقم کاٹتی ہے وہ سروس چارجز کی مد میں کاٹتی ہے، لہذا ایسی موبائل کمپنیوں سے ایڈوانس بیلنس کی سہولت حاصل کرنا جائز ہے،اور اگر کمپنی بطورِ قرض دے کر زائد رقم وصول کرے تو پھر لون لینا ناجائز ہوگا۔

الہدایۃ شرح البدایۃ میں ہے:

"الإجارة عقد على المنافع بعوض لأن الإجارة في اللغة بيع المنافع."

(كتاب الإجارة،231/3،المكتبة الإسلامية)

فتاوی شامی میں ہے:

"كلّ قرض جرّ نفعًا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن."

(مطلب كلّ قرض جرّ نفعًا حرام،166/5، سعيد)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144407101088

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں