
میری پہلی بیوی کا انتقال ہوچکا ہے، پھر چھ سال قبل میں نے دوسری عورت سے نکاح کرلیا، تین مہینے وہ ساتھ رہی، اور پھر ناراض ہوکر میکے چلی گئی، ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ میں ان کو بغیر اجازت گھر سے باہر جانے سے منع کرتا تھا۔
اب اس کے گھر والے داماد، بیٹا، بھائی وغیرہ یہ کہتے ہیں کہ "ان کو طلاق دو"، کیا اس کے رشتہ داروں کا طلاق کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟ نیز مجھ سے بھی کہتے ہیں کہ ان سے بات نہ کرو۔
واضح رہے کہ بیوی کے لیے بلا کسی شرعی حاجت و مجبوری کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا شرعًا درست نہیں ہے، آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ"جو عورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرےاس پر جنت کی خوش بو حرام ہے"، شریعت مطہرہ میں بیوی کو شوہر کی اطاعت اور فرماں برداری کا حکم دیا گیا،حدیث مبارکہ میں ہے کہ "بالفرض اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے"۔
تاہم یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ازدواجی زندگی کے پرسکون اور خوش گوار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، نبی کریم ﷺ نے شوہرکو اپنی اہلیہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد نبوی ہے:’’ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ اچھا ہو اور میں اپنی گھر والی کے ساتھ تم میں سے سب سے بہتر ہوں۔‘‘
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی کا سائل سے ناراض ہوکر اپنے میکے چلے جانا درست نہیں ہے، بلکہ اگر کہیں کسی معاملے میں شوہر کی جانب سے حقوق کی کمی کوتاہی پائی جاتی ہو تو باہمی مفاہمت سے مسئلہ کے حل کی کوشش کی جائے،اسی طرح سائل کو بھی چاہیے کہ اپنی اہلیہ اور ان کے گھر والوں کو مستقبل قریب اور بعید میں اُن کے جملہ حقوق کی مکمل ادائیگی کی یقین دہانی بھی کرائے،اگر باہمی مفاہمت سے کوئی حل نہ نکلےتو خاندان کے دیگر افراد کی مدد سے مفاہمت کی کوشش کرے، لیکن اس سب کے باوجود بھی گھریلو معاملات حل نہ ہو پائیں تو اس صورت میں سائل کے لیے طلاق دینے کی گنجائش ہوگی۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی ٰ کا ارشاد ہے :
"وَاللَّاتِىْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِى الْمَضَاجِــعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْـهِنَّ سَبِيْلًا اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْـرًا"[النساء: 34]
ترجمہ:’’ اور جو عورتیں ایسی ہوں کہ تم کو ان کی بد دماغی کا احتمال ہو تو ان کو زبانی نصیحت کرو، اور ان کو ان کے لیٹنے کی جگہ میں تنہا چھوڑ دو، اور ان کو مارو، پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنا شروع کردیں تو ان پر بہانا مت ڈھونڈو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے رفعت اور عظمت والے ہیں۔‘‘(از:بیان القرآن)
سنن أبی داؤد میں ہے:
"عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق."
(باب في كراهية الطلاق، رقم:2178، ج:2، ص:255، ط:المكتبة العصرية)
وفيه أیضاً:
"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة."
(باب في الخلع، رقم:2226، ج:2، ص:268، ط:المكتبة العصرية)
فتاوی شامی میں ہے:
''وأما الطلاق، فإن الأصل فيه الحظر بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه ، وهو معنى قولهم: الأصل فيه الحظر ، والإباحة للحاجة إلى الخلاص ، فإذا كان بلا سبب أصلاً لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص، بل يكون حمقاً وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها ، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى ، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة ، كما قيل ، بل هي أعم كما اختاره في الفتح فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعاً يبقى على أصله من الحظر ، ولهذا قال تعالى : ﴿فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلاً﴾ (النساء : 34) أي لا تطلبوا الفراق ، وعليه حديث: ’’ أبغض الحلال إلى الله عز وجل الطلاق‘‘. قال في الفتح: ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات، أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اھ .''
(کتاب الطلاق، ج:3، ص:228، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706102013
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن