بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بائیک کو پاک کرنے کا طریقہ


سوال

اگر بائیک ناپاک ہو جائے تو کیا دھونا ضروری ہو گا ؟یا ہوا یا دھوپ بائیک کو پاک کر دے گی ؟

جواب

اگر بائیک کا لوہے والاحصہ ناپاک ہوجائے تووہ پانی سے دھونے اور صاف کپڑے سے پونچھنے سے پاک ہوجائے گا۔

اوراگر بائیک کی سیٹ پرنجاست لگ جائےاوراس  پرچمڑےوغیرہ کا  کور  لگا ہوا ہو جس کی وجہ سے سیٹ کے اندر نجاست نہ گئی ہو تو اس کو پاک کرنے میں یہ تفصیل ہے :

  اگر ایسی نجاست ہے جو جسم والی نہیں ہوتی، مثلاً: پیشاب وغیرہ، تو ایسی صورت میں اس  کو  پانی سے دھونا ضروری ہے، چاہے نجاست تر ہو یا سوکھ چکی ہو، بغیر دھوئے پاک نہیں ہوسکتی،    اور اگر کوئی ایسی نجاست ہے جو آنکھوں سے نظر آنے والی ہے، جیسے گوبر وغیرہ، تو اگر اسے مٹی یا  کسی بھی چیز سے رگڑکر اس طرح صاف کرلیا جائے کہ نجاست کا کوئی اثر باقی نہ رہے، تو  وہ  پاک ہوجائے گی، اور اگر نجاست خشک ہو جیسے بکری کی مینگنی تو وہ صرف رگڑنے سے پاک ہوجائےگی۔

اور اگر  سیٹ پر چمڑے وغیرہ کا کور نہ ہو ، بلکہ نجاست سیٹ کے گدے یافوم کےاندر جذب ہوگئی ہوتو اس پر تین مرتبہ پانی بہانا ضروری ہے اور ہر مرتبہ  پانی بہا کر اتنی دیر چھوڑدیا جائے کہ اس سے پانی ٹپکنا بند ہوجائے،  تین مرتبہ ایسا کرنے سے  سیٹ  پاک ہو جائے گی یا تین مرتبہ کسی گیلے کپڑے سے نجاست والی جگہ کو خوب اچھے سے صاف کیا جائے اور ہر مرتبہ کپڑے کو دھو کر پاک کر لیا جائے تو اس سے بھی سیٹ کا فوم یا گدا پاک ہوجائے گا۔

اور اگر بائیک کے ٹائروں پرنجاست لگ جائےتو رگڑنے کی وجہ سے یاچلنے کی وجہ سےاس نجاست کا اثر بالکل ختم ہو جائے،تو اس سے ٹائر  پاک ہوجائے گا،اور اگر اثر باقی رہے تودھونے سے ٹائر پاک ہوجائےگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا وقع على الحديد الصقيل الغير الخشن كالسيف والسكين والمرآة ونحوها نجاسة من غير أن يموه بها فكما يطهر بالغسل يطهر بالمسح بخرقة طاهرة. هكذا في المحيط ولا فرق بين الرطب واليابس ولا بين ما له جرم وما لا جرم له. كذا في التبيين وهو المختار للفتوى. كذا في العناية ولو كان خشنا أو منقوشا لا يطهر بالمسح. كذا في التبيين."

(الباب السابع في النجاسة وأحكامه، الفصل الأول في تطهير الأنجاس، ج: 1، ص: 43، ط: دار الفکر بیروت)

وفیہ ایضا:

"وما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات والتجفيف في كل مرة؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وحد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس. هكذا في التبيين هذا إذا تشربت النجاسة كثيرا وإن لم تتشرب فيه أو تشربت قليلا يطهر بالغسل ثلاثا. هكذا في محيط السرخسي."

(الباب السابع في النجاسة وأحكامه، الفصل الأول في تطهير الأنجاس، ج: 1، ص: 42، ط: دار الفکر بیروت)

وفیہ ایضا:

"الخف إذا أصابه النجاسة إن كانت متجسدة كالعذرة والروث والمني يطهر بالحت إذا يبست وإن كانت رطبة في ظاهر الرواية لا يطهر إلا بالغسل وعند أبي يوسف إذا مسحه على وجه المبالغة بحيث لا يبقى لها أثر يطهر وعليه الفتوى لعموم البلوى. كذا في فتاوى قاضي خان وإن لم تكن النجاسة متجسدة كالخمر والبول إذا التصق بها مثل التراب أو ألقي عليها فمسحها يطهر وهو الصحيح. هكذا في التبيين وعليه الفتوى للضرورة. كذا في معراج الدراية."

(الباب السابع في النجاسة وأحكامه، الفصل الأول في تطهير الأنجاس، ج: 1، ص: 44، ط: دار الفکر بیروت)

فتاوی دار العلوم زکریا میں ہے:

"سوال: بسا اوقات قالین ناپاک ہو جاتا ہے اور اسے دھونا مشکل ہوتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں ناممکن ہوتا ہے اس لئے کہ اسے نچوڑا نہیں جاسکتا، جبکہ نچوڑ نا ضروری ہے تو ایسے قالین کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہو گا؟

جواب: ایسے بھاری قالین کو پاک کرنے کی صورت یہ ہے کہ ایک مرتبہ دھوکر ٹھہر جائیں یہاں تک کہ اس میں سے پانی ٹپکنا بند ہو جائے، جب پانی ٹپکنا بند ہو جائے تو پھر دھویا جائے اور دھونے کے بعد انتظار کیا جائے یہاں تک کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے، اس طرح تین مرتبہ کرنے سے قالین پاک ہو جائے گا۔لیکن اگر دھونا بھی مشکل ہو تو پھر کسی کپڑے کو بھگو کر اس سے کئی مرتبہ اچھی طرح صاف کر لیا جائے یہاں تک کہ نجاست دور ہو جائے اور اطمینان ہو جائے تو اسے بھی علماء نے مطہرات میں شمار کیا ہے۔

ملاحظہ ہو در مختار میں ہے: الغسل ومسح والجفاف مطهر (الدر المختار: 315/1). 

فتاوی اللکنوی میں ہے:

المطهر السادس: المسح بخرقات مبتلة (فتاوی اللکنوی: 141).

(کتاب الطھارۃ، باب: نجاستوں سے پاکی حاصل کرنے کا بیان، ج: 1، ص: 762،763، ط: زمزم پبلشرز کراچی)"

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610101625

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں