قرآن کریم میں ہے:
" وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا." ﴿الإسراء: ٢٣﴾
ترجمہ:"اور تیرے رب نے حکم کر دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو ۔اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جاویں تو ان کو کبھی (ہاں) ہوں بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑ کنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحمت فرمائیے، جیسا انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا پرورش کیا۔"(بیان القرآن)
مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن أبي أمامة أن رجلا قال: يا رسول الله ما حق الوالدين على ولدهما؟ قال: «هما جنتك ونارك» . رواه ابن ماجه"
(باب البر والصلة، الفصل الثالث، ج:3، ص:1382، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
ترجمہ:اور حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یارسول الله (ﷺ)! اولاد پر ماں باپ کا کیا حق ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا تمہارے ماں باپ تمہارے لئے جنت بھی اور دوزخ بھی۔ (مظاہر حق )
فقط واللہ اعلم