بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر کو نام سے پکارنا

سوال

کیا بیوی اپنے شوہر کو کسی مرد کے نام سے پکار سکتی ہے؟

جواب

مرد کے نام سے پکارنے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اگر شوہر کو اس کے نام سے پکارنا مراد ہے تو  بیوی کے لیے اپنے شوہر کو اس کے نام سے پکارنا مکروہ ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"يكره ‌أن ‌يدعو ‌الرجل ‌أباه والمرأة زوجها باسمه كذا في السراجية."

(الفتاوى الهندية، كتاب كتاب الكراهية، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم والعقيقة، 365/5، رشيدية)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"سوال: 1: میاں بیوی کو اس کا نام لے کر بلا سکتا ہے؟ اور بیوی اپنے میاں کو نام سے پکار سکتی ہے؟ ...

الجواب: مرد اپنی بیوی کو اس کے نام سے پکار سکتا ہے، لیکن عورت اپنے خاوند کو اس کے نام سے نہ پکارے کہ یہ بے ادبی اور گستاخی کی بنا پر مکروہ ہے۔يكره أن يدعو الرجل أباه و المرأة زوجها باسمه(كذا في السراجية)۔۔۔"

(کتاب الحظر و الاباحۃ، متفرقات حظر و اباحت، ج:10، ص:233، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101433
تاریخ08-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں