
بجاہ النبی الامین کہنا کیساہے؟
"بجاہ النبی الامین" کا مطلب ہے "امین نبی کے وسیلے سے"، اور حضورﷺ کا وسیلہ دے کر اللہ تعالی سے دعا مانگنا جائز ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں دورانِ دعا "بجاہ النبی الامین" یا دیگر الفاظ جس میں حضور ﷺ کا وسیلہ دیا جائے کہنا درست ہے، بلکہ دعا کی قبولیت کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔
صحیح بخاری میں ہے:
"عن أنس بن مالک أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه کان إذا قحطوا استسقی بالعباس بن عبدالمطلب رضي الله عنه فقال: اللهم إنا کنا نتوسل إلیک بنبینا ﷺ فتسقینا، وإنا نتوسل إلیک بعم نبینا فاسقنا! قال: فیسقون".
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دعا فرماتے تھے، چناں چہ یوں کہتے تھے: اے اللہ ہم آپ سے اپنے نبی ﷺ کے وسیلے سے دعاکرکے بارش طلب کرتے تھے، اب آپ ﷺ کے چچا کے وسیلے سے آپ سے بارش کی دعا کرتے ہیں، چناں چہ بارش ہوجاتی۔
(باب: ذكر العباس بن عبد المطلب رضي الله عنه، ج: 3، ص: 360، ط: دار ابن كثير، داراليمامة۔ دمشق)
سنن الترمذی میں ہے:
"عن عثمان بن حنيف، أن رجلاً ضرير البصر أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ادع الله أن يعافيني قال: «إن شئت دعوت، وإن شئت صبرت فهو خير لك». قال: فادعه، قال: فأمره أن يتوضأ فيحسن وضوءه ويدعو بهذا الدعاء: «اللّٰهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة، إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى لي، اللّٰهم فشفعه في»."
ترجمہ: عثمان بن حنیف سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہاکہ آپ دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے عافیت عطا فرمائے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے دعا کروں، اور چاہو تو تم صبر کرو، یہ تمہارے لیے بہترہوگا، اس نے کہا: آپ میرے لیے دعا فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کرو اور ان الفاظ سے دعا کرو: «اللّٰهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة، إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضي لي، اللّٰهم فشفعه في»، اے اللہ میں آپ سے سوال کرتاہوں اور آپ کی طرف متوجہ ہوتاہوں آپ کے نبی محمد ﷺ کے وسیلے سے جو نبی الرحمہ ہیں، اے میرے رب بے شک میں اپنی اس حاجت میں آپ کی طرف آپ کے ذریعے متوجہ ہوتاہوں تاکہ آپ میری حاجت پوری فرمائیں، اے اللہ میرے بارے میں ان (نبی کریم ﷺ) کی سفارش قبول فرمائیے۔
(أبواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب، ج: 5، ص: 536، ط: دار الغرب الإسلامي بيروت)
حجۃ اللہ البالغہ میں ہے:
"ومن آداب الدعاء تقديم الثناء على الله والتوسل بنبي الله، ليستجاب الدعاء، ثم تقرر الأمر على ذلك."
(الأمور التي لابد منها في الصلوة، ج: 2، ص: 10، ط: دار الجيل بيروت لبنان)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100369
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن