بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بہت سارے افراد کا مل کر قبرستان کے لیے زمین خریدنا


سوال

200 افراد نے مل کر ایک کمیٹی بنائی اور فی ممبر نے5 ہزار روپے دے کر قبرستان کے لیے آدھا ایکڑ زمین خرید کر کمیٹی  ممبران کے لیے وقف کر دی، اور تمام ممبران کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ کسی ممبر کے میاں بیوی اور غیر شادی شدہ بچوں کے انتقال کی صورت میں اگر وقف شدہ زمین میں جگہ ہو تو اس میں تدفین کی جائے گی اور اگر اس دوران جگہ ختم ہو جائے تو پھر صاحب خانہ پر تدفین کی ذمہ داری ہوگی۔

مثلا کسی ممبر کے پانچ افراد کی قبریں ،کسی کے دو یا کسی ممبر کے ایک فرد کی بھی قبر نہ ہو اور مقررہ زمین میں جگہ ختم ہو جائے، تو کسی ممبر کو بھی کسی قسم کا کوئی اعتراض نہ ہوگا ،اب آیا یہ معاملہ کرنا اگر جائز ہے تو بہتر اگر نا جائز تو پھر جائز صورت بتا دیں ۔

جواب

قبرستان کی نوعیت اور واقف کی نیت کے مطابق قبرستان عمومی یا مخصوص ہو سکتے ہیں، اگر واقف نے قبرستان کو تمام مسلمانوں کے لیے وقف کیا ہے، تو وہ سب کے لیے مشترک ہوگااور کسی کو تدفین سے روکنا جائز نہیں ہوگا، تاہم اگر واقف نے قبرستان کو کسی خاص بستی یا افرادکے لیے مخصوص کیا ہے، تو وہاں صرف اسی بستی یا  افراد کی تدفین ہوگی، اور دوسروں کو بغیر اجازت دفن کرنا جائز نہیں ہوگا۔

صورت مسئولہ میں  مذکورہ  زمین دو سو افراد پر مشتمل  کمیٹی کے لوگوں کی طرف سے ان ہی افراد کی تدفین کے لیے اس جگہ کو بطور  قبرستان  کے وقف کیا گیا ہے، لہذا  زمین کمیٹی والوں  کے مفاد کے لیے خاص ہو گئی اور اس قبرستان سے متعلق باہمی رضامندی سے جو یہ طے کیا گیا ہے کہ اگر کسی ممبر یا اس کے گھرانے کے افراد کے انتقال کی صورت میں اگر قبرستان میں جگہ باقی نہ رہے تو کوئی اعتراض نہ ہوگا،اور ممبر اپنی میت کی تدفین کا ذمہ دار خود ہوگا،درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وجاز جعل غلة الوقف) أو الولاية (لنفسه عند الثاني) وعليه الفتوى".

(کتاب الوقف، ج:4، ص:384، ط:ایچ ایم سعید)

وفیه أیضاً:

"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به".

(کتاب الوقف، ج:4، ص:433، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناءً و وقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعاً لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه، والأصح أنه لا يجوز، كذا في الغياثية".

(الباب الثانی فیما یجوز وقفہ، ج:2، ص:362، ط:رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة."

(کتاب الوقف، ج:4، ص:445، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ميت دفن في أرض إنسان بغير إذن مالكها كان المالك بالخيار إن شاء رضي بذلك وإن شاء أمر بإخراج الميت وإن شاء سوى الأرض وزرع فوقها."

(کتاب الوقف، ج:2، ص472، ط:رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء مالم يكن معصية، وله أن يخص صنفاً من الفقراء ولو كان في كلهم قرية،".

(كتاب الوقف، مطلب شرائط الواقف، ج:4 ،ص:343، ط:سعید)

وفیه أیضاً:

"(ولا يتم) الوقف (حتى يقبض) لم يقل للمتولي لأن تسليم كل شيء بما يليق به ففي المسجد بالإفراز وفي غيره بنصب المتولي وبتسليمه إياه ابن كمال (ويفرز) فلا يجوز وقف مشاع يقسم خلافا للثاني (ويجعل آخره لجهة) قربة (لا تنقطع)".

(کتاب الوقف،مطلب مهم فرق ابویوسف بین قوله موقوفة الخ، ج:4، ص:348، ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے: 

"سوال [۱۷۵۱۲ : ایک زمین قبرستان کے نام سے ایک خاندان کے لئے نامزد ہے، زمین مذکورہ میں خاندان موصوفہ کی میتیں مدفون ہوں ، عوام الناس کو عام طریقہ پر اپنے مردے دفن کرنے کی اجازت نہیں ہے، اور نہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص غیر متعلق اپنا مردہ بلا اجازت اشخاص خاندان موصوفہ قبرستان مذکورہ میں دفن کر دے تو یہ جائز ہے یا نا جائز ہے ؟ اگر اجازت حاصل کرنی چاہئے تو جملہ خاندان کے اشخاص کی ضرورت ہے، یا صرف ایک دو شخصوں کی کافی ہے؟ اگر صرف دو چار اشخاص نے اجازت دیدی اور دیگر انکار کر دیں تو اس اجازت پر عوض جائز ہے یا نا جائز ہے؟ 

الجواب حامداً و مصلياً :

اگروہ ز مین شرعی طریق پر وقف ہے تو واقف کی شرائط کے موافق عمل کرنا چاہیے ، اگر واقف کی طرف سے اجازت ہے تو دفن کرنا درست ہے، اگر غیر متعلق اشخاص کے دفن کرنے کی ممانعت ہے تو دفن کرنا نا جائز ہے۔

شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع، وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء مالم يكن معصية، وله أن يخص صنفاً من الفقراء ولو كان في كلهم قرية، اهم رد المحتار .

اگر وقف نامہ موجود نہیں، نہ شرائط واقف کا علم ہے اور عمل پہلے سے یہ ہے کہ غیر متعلق اشخاص کو اس میں دفن کرنے سے روکا جاتا ہے تو اس میں دفن نہیں کرنا چاہیے ۔ اگر وہ وقف نہیں ، بلکہ مملوک ہے تو مالک کی اجازت سے دفن کرنا چاہئیے ، بلا اجازت مالک کے دفن کرنا نا جائز ہے (۲) ۔ جو جو اس کے مالک ہیں مشترک اور مقسوم ہونے کی وجہ سے سب کی اجازت ضروری ہے، اگر تمام نے کسی ایک دو کو اس میں تصرفات اور اجازت و ممانعت دفن کے لئے اپنا وکیل بنا دیا ہے تو اس ایک دو کی اجازت کافی ہے (۳)، بلا اجازت دفن کی صورت میں مالک کو اختیار ہو گا کہ میت کو قبر سے باہر نکال دے، یا قبر کو برابر کر دے:إذا دفن الميت في أرض غيره بغير إذن مالكها، فالمالك بالخيار: إن شاء أمر بإخراج الميت، وإن شاء سوى الأرض وزرع فيها، كذا في التجنيس". فتاوی عالمگیری."

(کتاب الوقف، باب فی احکام المقابر، ج:15، ص:386، ط: ادراۃ الفاروق)

فقط والله أعلم 


فتویٰ نمبر : 144701100646

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں