
ہمارے والد کا انتقال ہوا، ترکہ میں ایک بڑا پلاٹ تھا، ورثا میں بیوہ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، تینوں بیٹوں نے پلاٹ آپس میں بانٹ کر پلاٹ اپنے قبضے میں لے لیا اور والدہ و بہنوں کو کوئی حصہ نہیں دیا، بعد میں والدہ کا بھی انتقال ہوگیا، ان کے ورثا بھی یہی تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، اب ایک بھائی نے پلاٹ فروخت کردیا ہے اور باقی بھی فروخت کر رہے ہیں۔
کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟بہنوں کا حصہ کس طرح دیا جائے گا؟ ہر بھائی الگ الگ حصہ دے گا یا تینوں بھائی مل کر ایک ساتھ بہنوں کو حصہ دیں گے؟
واضح رہے کہ والد کے ترکہ میں نرینہ اولاد کی طرح والد کے ترکہ میں بیوہ اور بیٹیوں کا بھی شرعی حق اور حصہ ہوتا ہے، والدین کے انتقال کے بعد ان کے کل یا بعض ترکہ پر بیٹوں کا قبضہ کر لینا اور اپنی مرضی سے تقسیم کر کے بیوہ اور بیٹیوں کویا کسی وارث کو اس کے وراثتی حصے سے محروم کرنا ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے، ہر ایک وارث کو اس کا حق اور حصہ اسی دنیا میں دینا لازم اور ضروری ہے، ورنہ دیگر ورثا کا حق نا حق ہتھیانے کی وجہ سے آخرت میں بدترین عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا،کیو ں کہ احادیثِ مبارکہ میں اس بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم والدین کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومین کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ، پھر اگر مرحومین کے ذمہ کوئی قرضہ ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد اور اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے اس وصیت کو نافذ کر نے کے بعد،مرحوم والدین کےکل ترکہ (منقولہ و غیر منقولہ) کو 8 حصوں میں تقسیم کر کے 2،2حصے ہر ایک بیٹے کو اور ایک ،ایک حصے ہر ایک ملے گا۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت( مرحوم والدین):8
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 25 فیصدہر ایک بیٹے کو،12.5 فیصدہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
پس مسئولہ صورت میں مرحوم کے تینوں بیٹوں نے چو ں کہ اپنے اپنے وراثتی حصے سے 8.33فیصد حصہ زیادہ لیاہے؛ اس لئے ان پر شرعاًلازم ہےکہ مذکورہ پلاٹ کی موجودہ مالیت کے اعتبار سےمرحوم کی دونوں بیٹیوں کو ان کا شرعی حصہ یعنی 12.5فیصد ادا کریں ،مسئولہ صورت میں ہر بیٹے پر وصول کردہ زمین میں سے8.33فیصد واپس کرنا لازم ہوگا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".
(مشكاة المصابيح، باب الغصب والعاریة، ج:1، ص:254، ط: قدیمی)
ترجمہ: حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
( كتاب الحدود، باب التعزيز، ج:4، ص:61، ط: ايچ ايم سعيد)
وفیه ایضاً:
" الإرث جبري لَايسْقط بالإسقاط".
(كتاب الدعوى، ج:7، ص:505، ط :ايچ ايم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101153
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن