
عام طور پر شہروں میں عورتیں، بچے، جوان بھیک مانگتے ہیں، بعض علماء اس کو گناہ کبیرہ کہتے ہیں اور کہتے ہیں کو جو لوگ ان کے ساتھ مدد کرتے ہیں وہ لوگ ان کے ساتھ ان کے گناہ میں معاون ہیں اسی طرح ہمارے گاؤں میں ہمارے بعض پڑوسیوں کی عادت ہے کہ وہ دوسروں سے کھانا مانگتے ہیں حالانکہ ان کے گھروں میں کھانے کی چیز موجود ہوتی ہے، ان دونوں کا کیا حکم ہے؟
شریعت نے صحت مند تندرست کمانے پر قدرت رکھنے والے شخص اور جس کے پاس ایک دن کا کھانا پینا اور ستر ڈھانکنے کے لیے لباس ہو کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا حرام قرار دیا ہےاور جو بغیر اذن شرع کے لوگوں کے سامنےہاتھ پھیلاتا ہے اس کے لیے سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں، لہذا اگر کوئی شخص لوگوں سے بھیک مانگنے کو اپنا پیشہ بنا لیتا ہے تو یہ گناہ اور حرام کام ہے، البتہ دینے والے کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ وہ سامنے والے کے بارے میں حسن ظن رکھے اور اس کے مانگنے کو اس کی واقعی مجبوری سمجھتےہوئے اس کی مدد کرے؛اس لیے بھیک مانگنے والے کو دینا کبیرہ گناہ نہیں ہے،تاہم اگر کسی کو قطعی یقین ہو کے میرِی دی ہوئی رقم سے وہ بھیک مانگنے والا مذکورہ شخص نشہ اور دیگر برائي،فساد اور گناه کے کام ہی کرے گا تو ایسی صورت میں ایسے مانگنے والے کو دینا گناہ پر معاونت کے مترادف ہے جو کہ ناجائز ہے۔
الله تعالي كا ارشاد هے:
"{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [ المائدة:2]"
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."
(سورة النساء، مطلب البيان من الله تعالى على وجهين، ج: 2، ص: 381، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن رجل من بني أسد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من سأل منكم، وله أوقية أو عدلها، فقد سأل إلحافا» ". رواه مالك وأبو داود والنسائي."
(كتاب الزكاة، باب من لا تحل له المسالة و من لا تحل، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 579، ط: المكتب الإسلامي بيروت)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من سأل الناس أموالهم ") أي شيئا من أموالهم...." فإنما يسأل جمرا " أي قطعة من نار جهنم، يعني ما أخذ سبب للعقاب بالنار، وجعله جمرا للمبالغة فهذا كقوله {إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما إنما يأكلون في بطونهم نارا} [النساء: 10] أي ما يوجب نارا في العقبى وعارا في الدنيا، ويجوز أن يكون جمرا حقيقة يعذب به كما ثبت لمانعي الزكاة " فليستقل " أي من السؤال أو الجمر " أو ليستكثر " أي ليطلب قليلا أو كثيرا وهذا توبيخ له أو تهديد، والمعنى سواء استكثر منه أو استقل."
(كتاب الزكاة، باب من لا تحل له المسالة و من لا تحل، ج: 4،ص:1309، ط:دار الفكر)
بذل المجہود فی حل سنن ابی داود میں ہے:
"(32) باب حق السائل
1665 - حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، حدثنا مصعب بن محمد بن شرحبيل، حدثنى يعلى بن أبى يحيى، عن فاطمة بنت حسين، عن حسين بن على قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «للسائل حق وإن جاء على فرس». [حم 1/ 201، ق 7/ 23]
(قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: للسائل حق وإن جاء على فرس) يعني إذا سأل سائل أحدا ينبغي له أن يحسن الظن به وإن جاء على فرس، فإنه يمكن أن يحتاج إلى ركوب الفرس، ومع ذلك تلجئه الحاجة إلى السؤال، ويكون له عائلة، أو يكون تحمل حمالة فلا يسيء الظن به، وهذا لعله باعتبار القرون الأولى، وأما في هذا الزمان فنشاهد كثيرا من الناس اتخذوا السؤال حرفة لهم، ولهم فضول أموال؛ فحينئذ يحرم لهم السؤال، ويحرم على الناس إعطاؤهم، والله أعلم"
(کتاب الزکات، باب حق السائل،ج:6،ص:523،رقم:1666،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)
فتاوی شامی میں ہے:
"وسيأتي في باب المصرف أنه لا يحل أن يسأل شيئا من له قوت يومه بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحالته لإعانته على المحرم."
(کتاب الصلاۃ، باب العیدین، ج: 2، ص: 164، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706101233
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن