بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بھڑ کے چھتے کو آگ لگا کر ختم کرنے کا حکم


سوال

بھڑ کے چھتے کو کیسے ختم کریں؟ کیا اس کو ختم کرنے کے لیے آگ لگا سکتے ہیں؟

جواب

اگر بھڑ کے چھتے کو ختم کرنے کے لیے آگ کے علاوہ دیگر مؤثر تدابیر اختیار کرنا ممکن ہو تو اسے آگ لگا کر ختم کرنا جائز نہیں، کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے آگ کے ذریعے کسی کو  جلانے سے منع فرمایا ہے۔

البتہ اگر کوئی دوسرا مؤثر طریقہ  ممکن نہ ہو اور اس کے باقی رہنے میں ضرر اور خطرہ ہو تو   اس صورت میں آگ لگانے کی گنجائش ہے۔

سنن أبی داود میں ہے: 

"عن محمد بن حمزة الأسلمي عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمره على سرية... (وفيه) "  ‌لا ‌يعذب ‌بالنار إلا رب النار."

(باب في كراهية حرق العدو بالنار، ج: 4، ص: 307-308، ط: دار الرسالة العالمية)

فتاوی شامی میں ہے: 

"(قوله إذ ‌لا ‌يعذب ‌بالنار إلا ربها) علة لمفهوم قوله بعده وهو عدم إحراقها قبل الذبح وفي صحيح البخاري «فإنه لا يعذب بها إلا الله» وأخرج البزار في مسنده عن عثمان بن حبان قال: كنت عند أم الدرداء رضي الله عنها فأخذت برغوثا فألقيته في النار فقالت: سمعت أبا الدرداء يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌لا ‌يعذب ‌بالنار إلا رب النار» " فتح ملخصا. ولا يرد هذا على ما مر من جواز حرق أهل الحرب عند قتالهم؛ لأن ذاك مقيد بما إذا لم يمكن الظفر بهم بدونه ."

(‌‌كتاب الجهاد، ج: 4، ص: 140، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

العقود الدريۃ  في تنقيح الفتاوى الحامديۃ میں ہے: 

"وقال العلائي في شرح التنوير من باب التعزير: وأفتى الناصحي بوجوب قتل كل مؤذ. اهـ. وأفتى العلامة ابن حجر الشافعي بأنه إذا لم يمكن دفعه إلا بالحرق جاز وعبارته في التحفة " وقضية جواز قلي وشي الجراد حل حرقه مطلقا لكن قال القاضي يدفع عن نحو زرع بالأخف فإن لم يندفع إلا بالحرق جاز. اهـ. ‌وفي ‌شرح ‌العباب ‌قال ‌القاضي ‌حسين يجوز حرق النمل الصغير ولو تضرر بجراد أو نمل دفع كالصائل فإن تعين إحراقه طريقا لدفعه جاز. اهـ."

(مسائل وفوائد شتى من الحظر والإباحة وغير ذلك، ج: 2، ص: 329، ط: دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710100376

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں