
1.بھنگ کی کاشتکاری کرنا شرعاً کیسا ہے؟
2.لوگ بھنگ کا عشر اس طرح نکالتے ہیں کہ جب فصل تیار ہوجائے تو اس کی قیمت لگا کر عشر نکالتے ہیں، لیکن اس کے بعد کچھ تصرف کر کے اس سے چرس بناتے ہیں جیسے گندم میں تصرف کر کے آٹا نکالتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا جب فصل تیار ہوجائے تب عشر نکالیں گے یا مزید تصرف کے بعد جب چرس نکالی جائے تب عشر لازم ہوگا؟
3.اگر کوئی فصل بیچ دے اور اُسی فصل (جو فصل بیچی ہے)کی قیمت کے اعتبار سے عشر نکال دے، تو کیسا ہے؟
1.افیون اور بھنگ کا چونکہ جائز استعمال بھی ہوتا ہے، جیسے ادویات و دیگر جائز امور میں استعمال لہذا افیون کی کاشت جائز ہے۔ اور دوا ساز ادارے یا کسی ایسے شخص کو فروخت کرنا جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ وہ اس سے کیا بنائے گا جائز ہے، البتہ کسی ایسی شخص کو فروخت کرنا جس کے بارے میں فروخت کنندہ کو معلوم ہو کہ خریدار افیون یا بھنگ ناجائز مقصد میں استعمال کرے گا مکروہ تحریمی ہے۔
2.بھنگ کی فصل پر عشر (جب آسمانی پانی سے فصل تیار ہوئی ہو) / نصفِ عشر (جب خود سے پانی کا انتظام کیا ہو) لازم ہوتا ہے، اس کے بعد مزید تصرف کرکے جو چرس بنائی جائے، تو اس میں اگر تجارت کی جائے تو زکات لازم ہوگی، عشر لازم نہ ہوگا۔
3.فصل اگر تیار ہونے کے بعد بیچی ہے تو اُسی فصل کا عشر / نصفِ عشر لازم ہوگا،تیار ہونے سے پہلے بیچنا جائز نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون. قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لايجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل."
(كتاب الحظروالإباحة، ج: 6، ص: 554، ط: سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما صفة الواجب فالواجب جزء من الخارج؛ لأنه عشر الخارج، أو نصف عشره وذلك جزؤه إلا أنه واجب من حيث إنه مال لا من حيث إنه جزء عندنا حتى يجوز أداء قيمته عندنا."
(كتاب الزكاة، باب زکاۃ الزرع والثمار، فصل في صفة الواجب، ج: 2، ص: 63، ط: سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله: ونصفه في مسقى غرب ودالية) أي ويجب نصف العشر فيما سقي بآلة للحديث والغرب دلو عظيم والدالية دولاب عظيم تديره البقر،... لأن النبي صلى الله عليه وسلم حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة فلا معنى لرفعها أطلقه فشمل ما فيه العشر وما فيه نصفه فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الأرض عشرا أو نصفا إلا أن ما تكلفه يأخذه بلا عشر أو نصفه".
(كتاب الزكاة، باب العشر: ج: 2، ص: 256، ط: دار الكتاب الإسلامي)
کفایت المفتی میں ہے:
"افیون ، چرس ،بھنگ یہ تمام چیزیں پاک ہیں اور ان کا دوا میں خارجی استعمال جائزہے، نشہ کی غرض سے ان کو استعمال کرنا ناجائزہے۔مگران سب کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کے مباح ہے،تجارت تو شراب اور خنزیر کی حرام ہے کہ ان کا استعمال خارجی بھی نا جائز ہے۔"
( کفایت المفتی، ج: 9، ص: 129، ط: دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101451
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن