
ہم چھ بھائی ہیں، ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے، والد صاحب نے ترکے میں صرف ایک زمین چھوڑی تھی جس پر ہم بھائیوں نے باغ بنایا ہے، وہ باغ تو ہم سب کا مشترکہ ہے، اس کے علاوہ چھ بھائیوں میں سے چار بھائیوں کا اپنا ذاتی کاروبار بھی ہے جس کا والد صاحب کے ترکے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان چار بھائیوں نے مجھے کہا ہے کہ آپ مدرسہ پڑھو اور ایک بھائی کو اسکول پڑھنے کا کہا ہے، ہم دونوں بھائیوں کا خرچہ وہ چاروں بھائی مل کر اٹھاتے ہیں، ہم دونوں جب بھی گھر میں ہوتے ہیں تو گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی کرلیتے ہیں اور مشترکہ باغ کی دیکھ بھال بھی کرلیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم دونوں بھائی باقی چاروں بھائیوں کے ساتھ ان کے ذاتی کاروبار (مثلا پراپرٹی وغیرہ کی خرید و فروخت) کی کمائی میں شریک ہیں یا نہیں؟ بھائیوں نے کبھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے، نیز کیا بھائیوں کے کاروبار کی وجہ سے ہم دونوں بھائیوں پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟
ان میں سے ایک بھائی کو مدرسہ پڑھنے ، باقی چار بھائیوں نے اور اسکول والا بھائی گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی کر لیتے ہیں، کیا یہ دونوں باقی بھائیوں کی کمائی میں شریک ہیں یا نہیں؟ اگر شریک نہیں ہے اور باقی چاروں بھائی بطور احسان ان دونوں بھائیوں کو حصہ دینا چاہتے ہوں تو کیا قبل از تقسیم ان دونوں پر قربانی وغیرہ لازم ہوگی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے چاروں بھائیوں نے آپ دونوں بھائیوں کو دینی یا دنیاوی پڑھائی کے لیے فارغ کیا ہے اور آپ دونوں کے خرچوں کی ذمہ داری اٹھائی ہے تو یہ ان چاروں کی طرف سے آپ دونوں پر احسان ہے، البتہ ان کے کہنے پر مدرسہ یا اسکول پڑھنے کی وجہ سے آپ دونوں ان چاروں کے ذاتی کاروبار کی کمائی میں شریک نہیں ہوں گے اور اگر آپ دونوں صاحب نصاب نہ ہوں تو بھائیوں کے کاروبار کی وجہ سے آپ صاحب نصاب شمار نہیں ہوں گے اور آپ پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔
المبسوط للسرخسي میں ہے:
"(وأما شركة العنان) فهو أن يشترك الرجلان برأس مال يحضره كل واحد منهما، ولا بد من ذلك، إما عند العقد، أو عند الشراء حتى أن الشركة لا تجوز برأس مال غائب، أو دين."
(كتاب الشركة: 11/ 152، ط: دار المعرفة، بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"إعلم أن أسباب الملك ثلاثة :ناقل كبيع وهبة خلافة كإرث وأصالة،وهو الاستلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب شبكة الصيد لا لجفاف على المباح الحالي عن مالك، فلو استولى في مفازة على حطب غيره لم يمكله ولم يحل للمقلش مايجده بلاتعريف وتمام التفريع في المطولات."
(کتاب الصید،ج:6،ص:463،ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر.
(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم، وصاحب الثياب الأربعة لو ساوى الرابع نصابا غني وثلاثة فلا، لأن أحدها للبذلة والآخر للمهنة والثالث للجمع والوفد والأعياد، والمرأة موسرة بالمعجل لو الزوج مليا وبالمؤجل لا، وبدار تسكنها مع الزوج إن قدر على الإسكان."
(کتاب الأضحیة، 312/6، ط:سعید)
فتاوی مفتی محمود میں ایک سوال کے جواب میں ہے:
"جو جائیداد اس ایک بھائی نے اپنی مخصوص کما ئی سے خرید رکھی ہےوہ جائیداد اس ایک ہی کی ملکیت متصور ہوگی۔"
(کتاب الشرکۃ،ج:8،ص:158،ط:جمعیۃ پبلیکیشنز)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100495
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن