
پانچ بھائی آپس میں یہ طے کر رہے ہیں کہ ہر بھائی 50 ہزار روپے جمع کرے گا، اور جس بھائی کے گھر فوت گی ہو جائے تو اس رقم سے تین دن تک میت کے گھر کے لیے کھانا تیار کیا جائے گا، اور یہ سب رضامندی سے کرتے ہیں، یا ہر فرد(چاہے بالغ ہو یا نابالغ) کے اوپر 100 روپے ماہانہ مقرر کر دیں یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں ہےصورت کی طرف راہ نمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر پانچ بھائیوں نے باہمی اتفاق اور رضامندی سے یہ بات طے کی ہو کہ جس بھائی کے گھر فوتگی ہو جائے، اس کے لیے تین دن کے کھانے کا انتظام کیا جائے گا، اور پانچوں بھائیوں نے فنڈ جمع کرنے کے لیے ایسی صورت اختیار کی ہو کہ ہر بھائی کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق، بغیر کسی مخصوص رقم کے تعین کے، دلی خوشی اور مکمل رضامندی سے فنڈ کی مد میں بطورِ صدقہ جتنی رقم چاہے جمع کرائے، اور کسی کو بھی رقم جمع کرنے پر مجبور نہ کیا جائے، اور اگر کوئی بھائی رقم جمع نہ بھی کرے تو اس کے ساتھ بھی جمع کرنے والوں جیسا ہی معاملہ کیا جائے، تو اس صورت میں اس مقصد کے لیے میت فنڈ جمع کرنا جائز ہوگا۔
لیکن اگر فنڈ جمع کرنے کے عمل میں درج ذیل امور پائے جائیں، تو اس صورت میں ایسا فنڈ جمع کرنا جائز نہیں ہوگا۔
(1) اگر اس کمیٹی کی بنیاد یہ ہو کہ ممبر بننے کے لیے پانچوں بھائیوں میں سے ہر ایک پر متعین رقم جمع کرنا لازم ہو، خواہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، اور اگر کوئی بھائی مقرر کردہ رقم جمع نہ کرے تو اسے دیگر رکن بھائیوں کی طرح سہولیات فراہم نہ کی جائیں، تو ایسی صورت میں اس کمیٹی کی بنیاد باہمی امداد پر نہیں رہتی، بلکہ ہر فرد کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولت فراہم کرنا مقصود ہوتا ہے، جو کبھی جمع شدہ رقم سے کم اور کبھی زیادہ ہوتی ہے، اس بنا پر یہ معاملہ قمار (جوا) کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔
(2) بعض اوقات کوئی بھائی اس قدر غریب ہوتا ہے کہ وہ مقرر کردہ رقم کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتا، لیکن خاندانی دباؤ اور رواداری کی بنا پر دلی رضامندی کے بغیر مجبوراً رقم جمع کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلال و طیب نہیں رہتا، کیونکہ شریعتِ مطہرہ کے مطابق کسی مسلمان کا مال اس کی دلی خوشی کے بغیر دوسرے مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے۔
(3) شرعاً مستحب یہ ہے کہ میت کے عزیز و اقارب اور پڑوسی حضرات اپنی وسعت کے مطابق میت کے گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کریں، لیکن موجودہ رائج طریقوں میں یہ کھانا اکثر دعوت کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جبکہ میت کے موقع پر دعوت کرنا مکروہ ہے، اس لیے اس طرزِ عمل سے اجتناب لازم ہے۔
(4) کمیٹی میں فنڈ کی مد میں جمع شدہ رقم کی حیثیت شرعاً امانت یا قرض کی ہوتی ہے، لہٰذا اگر رقم جمع کرانے والے کا انتقال ہو جائے تو وہ رقم اس کے ترکہ کا حصہ شمار ہوگی، جسے اس کے ورثاء کو واپس کرنا ضروری ہوگا، جبکہ عملاً کمیٹی والے اسی رقم کو میت کے کھانے پر خرچ کر دیتے ہیں، جو کہ از روئے شریعت جائز نہیں ہے۔
(5) فنڈ کی مد میں رقم جمع کرانے والا شخص اگر صاحبِ نصاب ہو تو اس پر اس رقم کی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہوتی ہے، جبکہ عملاً کمیٹی میں شامل افراد اپنی جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، اور بلاعذر زکوٰۃ ادا نہ کرنا شرعاً گناہِ کبیرہ ہے۔
(1)فتایٰ شامی میں ہے:
"لأن القمار من القمر الذي یزداد تارةً وینقص أخری وسمي القمار قماراً؛ لأن کلَّ واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلی صاحبه، ویجوز أن یستفید مال صاحبه وهو حرام بالنص".
(کتاب الحظر و الإباحة، فصل في البیع،ج:6،ص:404،ط:سعید)
(2)سنن دارقطني میں ہے:
"عن أنس بن مالك ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه."
(كتاب البيوع، ج:3، ص:424، الرقم:2885، ط:مؤسسة الرسالة، بيروت - لبنان)
(3)فيض القديرمیں ہے:
"(اصنعوا لآل جعفر) بن أبي طالب الذي جاء نعيه (طعاما) يشبعهم يومهم وليلتهم (فإنه قد أتاهم ما يشغلهم) عن صنع الطعام لأنفسهم في ذلك اليوم لذهولهم عن حالهم بحزنهم على ميتهم. ... قال ابن الأثير: أراد اطبخوا واخبزوا لهم فيندب لجيران الميت وأقاربه الأباعد صنع ذلك ويحلفون عليهم في الأكل: ولا يندب فعل ذلك لأهله الأقربين لأنه شرع في السرور لا في الشرور فهو بدعة قبيحة كما قاله النووي وغيره. قال ابن الحاج: وينبغي لأهل الميت التصدق بالفاضل أو إهداؤه قال القرطبي: الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام والمبيت عندهم كل ذلك من فعل الجاهلية قال ونحو منه الطعام الذي يصطنعه أهل الميت في اليوم السابع ويجتمع له الناس يريدون به القربة للميت والترحم عليه وهذا لم يكن فيما تقدم ولا ينبغي للمسلمين أن يقتدوا بأهل الكفر وينهي كل إنسان أهله عن الحضور لمثل هذا وشبهه من لطم الخدود وشق الجيوب واستماع النوح وذلك الطعام الذي يصنعه أهل الميت كما ذكر فيجتمع عليه الرجال والنساء من فعل قوم لاخلاق لهم. قال وقال أحمد هو من فعل الجاهلية. قيل له أليس قال النبي صلى الله عليه وسلم اصنعوا لآل جعفر طعاما إلى آخره فإن لم يكونوا اتخذوا إنما اتخذ لهم فهذا كله واجب على أن الرجل له أن يمنع أهله منه فمن أباحه فقد عصى الله وأعانهم على الإثم والعدوان."
(حرف الهمزة، ج:1، ص:533، الرقم:1091، ط:المكتبة التجارية الكبرى - مصر)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"اصنعوا لآل جعفر طعاما)....والمعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم، فيحصل لهم الضرر وهم لا يشعرون. قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية."
(كتاب الجنائز،باب البكاء على الميت، ج:3، ص:1241،الرقم:1739، ط:دار الفكر، بيروت - لبنان)
فتاویٰ شامی میں ہے:
(قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت
وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم
(باب صلاة الجنازة،مطلب في الثواب على المصيبة، ج:2، ص:240، ط: سعید)
(4)فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث....ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث."
(کتاب الفرائض،الباب الثاني في ذوي الفروض، ج:6، ص:447، ط:رشيدية)
(5)وفيه ايضاّ:
"(ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه هكذا في العيني شرح الكنز."
كتاب الزكوٰة،الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:172، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102488
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن