بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائیوں کا آپس میں غیر منصفانہ تقسیم کے بعد بہنوں کا اپنے حصوں کا مطالبہ کرنا


سوال

زید کے انتقال کے وقت ورثاء میں بیوہ، پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں حیات تھیں، جبکہ والدین ان کی زندگی میں ہی انتقال کرچکے تھے۔ اس کے بعد بیوہ کا بھی انتقال ہوگیا اور یہی اولاد ورثاء ہیں۔بیوہ کے بھی والدین زندگی میں انتقال کرگئے تھے۔

زید کے ترکہ میں ایک مکان تھا جسے پانچوں بیٹوں نے آپس میں تقسیم کرلیا، بہنوں کو کچھ نہیں دیا، اور بہنوں نے اس وقت کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا۔ کئی سال بعد بہنوں نے اپنے بھائیوں سے والد کے ترکہ میں اپنے حصے کا مطالبہ کیا۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر بھائی بہنوں کو ان کا حصہ دینا چاہیں تو وہ کس قیمت کے اعتبار سے دیں گے ؟موجودہ قیمت کے لحاظ سے یا پرانی قیمت کے لحاظ سے؟

واضح رہے کہ مکان کی تقسیم کے وقت بھائیوں نے اس کی قیمت طے نہیں کی تھی، بلکہ صرف پانچ برابر حصوں میں تقسیم کرکے اس میں رہائش اختیار کرلی تھی۔اور بہنوں کو کچھ نہیں دیا تھا۔ بہنوں سے اس وقت کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

جواب

صورت مسئولہ میں والدین کے انتقال کے بعد ان کے متروکہ مکان میں ان کی تمام اولاد یعنی بیٹے بیٹیاں اپنے اپنے حصوں کے بقدر شریک تھے۔ مذکورہ مکان کی تقسیم کے وقت بھائیوں کا اس مکان کو آپس میں تقسیم کرکے بہنوں کو محروم کرنا جائز نہیں تھا، لہذا یہ تقسیم شرعاً ناجائز ہے یا مذکورہ تقسیم کو ختم کرکے از سر نو مکان کی تقسیم کی جائے اور بہنوں کا ان کا حصہ دیا جائے۔

یا باہمی رضامندی سے اگر بھائی اس مکان کو خود رکھنا چاہیں اور بہنوں کو رقم دینا چاہیں تو مذکورہ مکان کی موجودہ قیمت لگا کر بہنوں کو ان کا حصہ دینا لازم ہوگا۔

ہر ایک کے شرعی حصوں کی تفصیل اور ترکہ کی تقسیم کا طریقہ درج ذیل ہے:

مرحومین کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ اولاً مرحومین کے حقوقِ متقدّمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ (اگراب تک ادانہ کیاگیاہو،یاکسی نےبطورقرض اداکیاہوتو) نکالنے کے بعد ،اگر مرحومین  کے ذمہ کوئی قرض ہو ، تو  اسے بقیہ ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر انہوں  نے کوئی جائز  وصیت کی ہو تو  اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد ترکہ کو 15حصوں میں تقسیم کرکے،دو، دو حصےہر ایک بیٹے کو،ایک، ایک حصہ  ہرایک بیٹی کوملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے :

میت مرحوم والدین: 15

بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
2222211111

یعنی فیصد کے حساب سے 13.333 فیصد ہر ایک بیٹے کو، 6.666 فیصد ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

(‌ومنها) ‌الرضا ‌في ‌أحد ‌نوعي ‌القسمة، ‌وهو ‌رضا ‌الشركاء ‌فيما ‌يقسمونه ‌بأنفسهم ‌إذا ‌كانوا ‌من ‌أهل ‌الرضا، ‌أو ‌رضا ‌من ‌يقوم ‌مقامهم، ‌إذا ‌لم ‌يكونوا ‌من ‌أهل ‌الرضا ‌فإن ‌لم ‌يوجد ‌لا ‌يصح، ‌حتى ‌لو ‌كان ‌في ‌الورثة ‌صغير ‌لا ‌وصي ‌له، ‌أو ‌كبير ‌غائب، ‌فاقتسموا؛ ‌فالقسمة ‌باطلة؛ ‌لما ‌ذكرنا ‌أن ‌القسمة ‌فيها ‌معنى ‌البيع، ‌وقسمة ‌الرضا ‌أشبه ‌بالبيع، ‌ثم ‌لا ‌يملكون ‌البيع ‌إلا ‌بالتراضي، ‌فكذا ‌القسمة، ‌إلا ‌إذا ‌لم ‌يكونوا ‌من ‌أهل ‌الرضا ‌كالصبيان ‌والمجانين ‌فيقسم ‌الولي ‌أو ‌الوصي ‌إذا ‌كان ‌في ‌القسمة ‌منفعة ‌لهم؛ ‌لأنهما ‌يملكان ‌البيع ‌فيملكان ‌القسمة، ‌وكذا ‌إذا ‌كان ‌فيهم ‌صغير ‌وله ‌ولي، ‌أو ‌وصي، ‌يقتسمون ‌برضا ‌الولي ‌أو ‌الوصي، ‌فإن ‌لم ‌يكن ‌نصب ‌القاضي ‌عن ‌الصغير ‌وصيا، ‌واقتسموا ‌برضاه ‌فإن ‌أبى ‌ترافعوا ‌إلى ‌القاضي، ‌حتى ‌يقسم ‌بينهم، ‌ومنها ‌حضرة ‌الشركاء ‌أو ‌من ‌يقوم ‌مقامهم ‌في ‌نوعي ‌القسمة، ‌حتى ‌لو ‌كان ‌فيهم ‌كبير ‌غائب ‌لا ‌تجوز ‌القسمة ‌أصلا ‌ولا ‌يقسم ‌القاضي ‌أيضا ‌إذا ‌لم ‌يكن ‌عنه ‌خصم ‌حاضر ‌ولكنه ‌لو ‌قسم ‌لا ‌تنقص ‌قسمته؛ ‌لأنه ‌صادف ‌محل ‌الاجتهاد ‌فلا ‌ينقض."

(كتاب القسمة، فصل في الشرائط، ج: 7، ص: 22، ط: دار الكتب العلمية)

مجمع الانہر میں ہے:

"(ثم يقسم الباقي بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب والسنة وإجماع الأمة."

(كتاب الفرائض، ج: 2، ص: 747، ط: دار إحياءالتراث العربي)

درر الحكام في شرح مجلۃ الاحكام میں ہے:

"(المادة 1073) - (تقسيم حاصلات ‌الأموال ‌المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات ‌الأموال ‌المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما."

(الكتاب العاشر الشركات، المادة: 1073، ج: 3، ص: 26،ط: دار الجيل)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

’’جس وقت ترکہ تقسیم کیا جائے اس وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا،یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے، اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے‘‘۔

(کتاب المیراث ،ج: 10، ص: 283، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101066

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں