
اگر میں اپنی زکوٰۃ اپنے بھائی کو دینا چاہوں جو امی کے ساتھ رہتا ہے، لیکن امی اپنا خرچہ اپنی پنشن کے پیسوں سے خود کرتی ہیں۔ البتہ میرا بھائی بھی تھوڑی بہت رقم دے دیتا ہے، کیوں کہ اس کے اپنے کاروبار میں کافی قرض ہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہے۔ تو کیا بھائی کے قرض اتارنے کی غرض سے اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، جبکہ وہ مالی طور پر اتنا پریشان ہے کہ عید کے کپڑے بھی نہیں لے سکتا اور مشکل سے گزارا ہو رہا ہے؟
مزید یہ کہ وہ شادی شدہ بھی ہے۔ والد صاحب کی وفات سے پہلے جو کاروباری قرض والد صاحب نے لیا تھا وہ بھی ابھی تک ادا نہیں ہو سکا، اور کسی بھی بھائی کی اتنی حیثیت نہیں کہ وہ اس قرض کو ادا کر سکے۔
تو کیا میں زکوٰۃ کی رقم اپنے اس بھائی کو دے سکتا ہوں جو والد صاحب کا کاروبار سنبھال رہا ہے تاکہ قرض ادا ہو سکے؟
فتویٰ نمبر : 144709101561
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن