
زید کے گھر زید کی بہن کے رشتے کے سلسلے میں کچھ لوگ آئے۔ اُس وقت زید گھر پر موجود نہیں تھا، البتہ اُس کے والدین گھر میں تھے۔ جب زید واپس آیا اور ان مہمانوں کے بارے میں پوچھا تو اسے ساری بات بتائی گئی۔ اس پر زید نے تین مرتبہ یہ الفاظ کہے:"اگر میں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کروایا تو میری بیوی کو تین طلاق۔"پھر اس کے بعد زید نے یہ بھی کہا:"اگر میری بہن خود بھاگ کر اس سے نکاح کرے تو بھی میری بیوی کو تین طلاق۔"یہ الفاظ بھی اس نے تین بار دہرائے۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ زید کے والد کا انتقال ہو چکا ہے، اور گھر میں زید کی والدہ اور چچا موجود ہیں،سوال یہ ہے کہ:
1۔کیا زید کے چچا کو اپنی بھتیجی (یعنی زید کی بہن) کا نکاح کرنے کا حق حاصل ہے جب کہ لڑکی عاقلہ بالغہ ہے؟
2۔اگر وہ زید کی بہن کا نکاح اسی شخص سے کروا دیتے ہیں، تو کیا زید کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟
1۔صورتِ مسئولہ میں جب والد موجود نہیں ہے تو لڑکی کے نکاح میں ولی بننے کا حق اس کے بھائی کو حاصل ہے، اس کے بعد چچا کو ہے،لیکن جب بھائی نے طلاق کی قسم کھا ئی ہے تولڑکی کا نکاح اس کا چچا کرواسکتا ہے۔
2۔زید نے قسم کھاتے وقت اپنی بیوی کی طلاق کو دو چیزوں پر معلق کیا ہے:
پہلی یہ ہے کہ وہ خود نکاح کروائے ،دوسری یہ کہ بہن خود بھاگ کر نکاح کرےاب اگر چچا زید کی اجازت کے بغیر نکاح کرواتے ہیں تو یہ دونوں شرائط نہیں پائی جارہی اس لیے زید کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"وأقرب الأولياء إلى المرأة الابن ثم ابن الابن، وإن سفل ثم الأب ثم الجد أبو الأب، وإن علا، كذا في المحيط..ثم الأخ لأب وأم ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم ثم ابن الأخ لأب، وإن سفلواثم العم لأب وأم ثم العم لأب."
(کتاب النکاح، الباب الرابع في الأولياء في النكاح،ج:1، ص:283، ط:رشيدية)
شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:
"مسألة: [تعليق الطلاق بشرط مستقبل]
قال: (وإذا علق طلاقها بشرط مستقبل، سواء مما قد يكون، أو لا يكون: فإنه لا يقع شيء حتى يوجد الشرط، وليس عليه أن يعتزل امرأته؛وذلك لأنه علق الطلاق بالشرط، ولم يوقعه في الحال."
(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:5، ص:86، ط:دار البشائر الإسلامية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100876
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن