
ہمارا بھائی فوت ہوا، جو ہم سے الگ گھر رہتا تھا، چنانچہ اس کے بعد ہماری بھابھی نے دوسرے اجنبی مرد کے ساتھ تعلقات بنا دیے جو اس کے گھر آتا جاتا تھا، ایک مرتبہ ہم نے اس اجنبی مرد کو اپنی بھابھی کے ساتھ اپنے بھائی کے گھر میں پایا، اس پر ہماری بھابی کہنے لگی کہ اس کے ساتھ میں نے نکاح کیا ہے تو ہم نے کہا کہ تو اس گھر سے نکل جا اور جس کے ساتھ تو نے نکاح کیا ہے اس کے ساتھ چلی جا، چنانچہ اس نے گھر کا اکثر سامان مثلاً کولر اےسی فرنیچر سونا وغیرہ سب کچھ بیچ ڈالا اور اس سے ہمارے بھائی کی ایک بیٹی جو چار سال کی ہے اور تین بیٹے ہیں جن میں سے ایک سات سال کا ایک آٹھ سال کا اور ایک نو سال کا ہے ان تین بیٹوں کو ہم نے اپنے پاس رکھا اور بیٹی ہماری بھابھی کے پاس ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہم نے اس کو گھر سے نکالا ہے اور بچے ہمارے پاس ہیں، اس کا شرعا کوئی گناہ تو نہیں ہے اور بھابھی کا ہمارے ذمے کیا حق بنتا ہے جو ہمیں دینا چاہیے اور اس کے ساتھ ہم کس طرح معاملہ اختیار کریں؟
بیٹوں کی پرورش كا حق 7 سال کی عمر تك اور بیٹیوں كا 9 سال کی عمر تك والدہ كو ہوتا ہے بشرطیکہ والدہ نے اولاد كے کسی غير محرم سے نكاح نہ كيا ہو،اگر سائل کی بھابھی نےعدت کےبعدبیٹی کے غیر محرم سےنکاح کرلیاہوتو اس کاحق پرورش ختم ہوگیا۔
لہذا صورت مسئولہ میں بيٹوں كا سات سال کی عمر هونے کی وجہ سے اور بیٹی كا غير محرم كے ساتھ نکاح کرنے کی وجہ سے والدہ کا حق پرورش ختم ہوگیا، اس کے بعد بیٹوں کی پرورش کا حق عصبات کی ترتیب کے مطابق والد کے حیات نہ ہونے کی صورت میں یہ حق دادا، چچا وتایا کو حق حاصل ہوگا، اور بیٹی کی پرورش کا حق اس کی نانی،، دادی، خالہ اور پھوپھی کو بالترتیب حاصل ہوگا۔
بھائی کے انتقال کے بعد ان کی مرحوم بیوہ سے حسن سلوک اور اچھے اخلاق کا معاملہ کیا جائے، مرحوم بھائی کی بیوی ہونے کے ناطے ان کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کیا جائے، نیز مرحوم بھائی کی اگر میراث ہے تو اس میں جو ان کا شرعی حصہ بنتا ہے وہ ان کو دے دیا جائے، تاہم جو چیزیں انہوں نے فروخت کر کے اس کی رقم خود رکھ لی ہے ا گر اشیاء سے ہی ان کا حصہ پورا ہو گیاتو مزید دینا ضروری نہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها هكذا في النهر الفائق. ولا تجبر عليها في الصحيح لاحتمال عجزها إلا أن يكون له ذو رحم محرم غيرها فحينئذ تجبر على حضانته كي لا يضيع بخلاف الأب حيث يجبر على أخذه إذا امتنع بعد الاستغناء عن الأم كذا في العيني شرح الكنز، وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها."
(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:541، ط:رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية ۔۔۔۔ (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. (وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد زيلعي."
(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:566، 567، ط:سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا وجب الانتزاع من النساء أو لم يكن للصبي امرأة من أهله يدفع إلى العصبة فيقدم الأب، ثم أبو الأب، وإن علا، ثم لأخ الأب وأم، ثم لأب، ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب وكذا من سفل منهم، ثم العم لأب وأم، ثم لأب."
(کتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:542، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100318
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن