
ہمارا ایک بھائی تبلیغ میں وقت لگا رہا تھا، اس وقت سات بھائیوں نے اپنی اپنی زمینیں فروخت کی تھیں، مگر جو بھائی تبلیغ میں جا رہا تھا اس کی زمین اس وقت نہیں بیچی گئی تھی، جب مذکورہ بھائی تبلیغ سے واپس آیا تو ان سات بھائیوں نے مل کر اسے دو لاکھ روپے بطور قرض دیے، بڑے بھائی نے کہا تھا کہ جب یہ اپنی زمین بیچے گا تو وہ سب کو یہی دو لاکھ روپے واپس کرے گا اور سب اس پر راضی تھے،اب جب اس بھائی نے اپنی زمین 20 لاکھ روپے میں بیچ دی ہے تو ایک بھائی کا دعویٰ ہے کہ دو لاکھ روپے جو ہم نے دیے تھے، اس میں میرے پیسوں کے بدلے میرا زمین میں حصہ بنتا تھا جو اس نے بیچ دی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ:کیا مذکورہ بھائی سب بھائیوں کو وہی دو لاکھ روپے واپس کرے گا جو بطور قرض دیے گئے تھے، یا 2022 میں جب اس نے اپنی زمین بیچی، اس میں سب بھائیوں کا بھی حصہ شامل تھا اور اب فروخت شدہ زمین کے پیسوں میں ان کا حق بنتا ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃًتمام بھائیوں نے مذکورہ بھائی کو دو لاکھ روپے بطور قرض دیے تھے اور اس وقت باہمی رضامندی سے یہ بات طے ہوئی تھی کہ وہ جب اپنی زمین بیچے گا تو سب کو یہی دو لاکھ روپے واپس کرے گا، تو اب اس صورت میں مذکورہ بھائی اپنے دیگر بھائیوں کو صرف وہی دو لاکھ روپے ہی واپس کرے گا،لہذا کسی بھی بھائی کو مذکورہ زمین میں حصے کا دعوی کرنا درست نہیں۔
شرح الزیادات لقاضی خان میں ہے:
"وإنما الديون تقضى بأمثالها، لا بأعيانها. وطريق ذلك أن يجب للمديون على صاحب الدين مثلُ ما عليه."
(باب من الإقرار بالدين لقول الوارث أن أباه قبض من غريمه ويجحد الوارث الآخر، ج:4، ص:1365،ط:المجلس العلمي)
فتاوی شامی میں ہے:
"أن الديون تقضى بأمثالها لا أنفسها لأن الدين وصف في الذمة لا يمكن أداؤه، لكن إذا أدى المديون وجب له على الدائن مثله فتسقط المطالبة لعدم الفائدة."
(كتاب الرهن، فصل في مسائل متفرقة، ج:6، ص:525، ط:دار الفكر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101787
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن