
میرے والد نے آج سے چالیس سال قبل چچاکو کسان پیش کرکے ساڑھے تین ایکڑ زمین ان کے نام پر گورنمنٹ سے حاصل کی اور اپنے قبضے میں رکھ لی ۔چچا کسان نہیں تھے اب ان کے نام پر ہے لیکن قبضہ اور نفع ایک زمانہ سے ہمارے پاس آتاہے ۔اب اس زمین اور اس کی آمدنی کی شرعی حکم بتائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ زمین حکومت کی طرف سے چچا کے نام پر آلاٹ کی گئی تھی،اور اب بھی اس کے نام پر ہے اس وجہ اس کا مالک چچاہی ہے ۔اور سائل کے والد کو چاہیے کہ وہ زمین اپنے بھائی ( سائل کے چچا ) کو واپس کرے ۔اور اب تک اس زمین سے جو آمدنی حاصل کی گئی ہیں ،وہ بھی اپنے بھائی کو واپس یا ان سے معاف کرواکر دنیا ہی میں معاملہ صاف کریں ،اور مذکورہ عمل پر سچے دل سے توبہ ،واستغفار کریں ،اور آئندہ کے لیے ایسی حرکت نہ کرنے کا عزم کریں ۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك"
(كتاب إحياء الموات، کتاب الصید، ج: 6، ص: 463، ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض."
(كتاب الهبة، فصل في حكم الهبة، ج: 6، ص: 127، ط: دار الكتب العلمية )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100789
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن