بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 صفر 1448ھ 30 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائی کے ساتھ لڑائی کے دوران بیوی کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق، طلاق، طلاق، کہنے کا حکم


سوال

میری اپنے بھائی کے ساتھ لڑائی ہوئی ،لڑائی کے دوران میں نے غصے میں آکر یہ الفاظ اداکئے :طلاق،طلاق ،طلاق۔میری بیوی حاملہ ہے،  تقریبا وہ ایک مہینے کے اندر میری بچے کی ماں بننے والی ہے۔

اب پوچھنا یہ تھا کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟اور اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو عدت گزارنے کا کیا طریقہ ہے ؟اور دوبارہ ایک ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟

(وضاحت):بھائی کے ساتھ گھر کے صحن میں میری لڑائی ہو رہی تھی، جبکہ میری بیوی کمرے کے اندر موجود تھی، بیوی سے متعلق کوئی بات نہیں چل رہی تھی ۔ اسی دوران میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے۔میں حلفاً یہ کہتاہوں کہ  ان الفاظ سے میری طلاق دینے کی نہ نیت تھی، نہ ہی میرا قصد تھا۔ مزید یہ کہ میری بیوی نے بھی یہ الفاظ نہیں سنے۔

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا سوال اگر واقعۃ درست ہے تو اس کا جواب یہ ہےکہ  بھائی کے ساتھ لڑائی کے دوران غصے کی حالت میں، بیوی کی طرف نسبت کیے بغیر، یہ الفاظ ادا کرنا کہ: "طلاق، طلاق، طلاق" اگر واقعتاً سائل کا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ اور نیت نہیں تھی، اور سائل اس پر حلف اٹھانے کے لیے بھی تیار ہے، تو اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ دونوں کا نکاح برقرار ہے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في قول البحر: إن الصريح يحتاج في وقوعه ديانة إلى النية (قوله أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها."

(کتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،  ج:3، ص:250، ط:سعید)

کفایت المفتی میں ہے :

"بغیر نسبت کے صرف ’’ لفظ طلاق‘‘ کہنے سے طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟

(سوال)   زید کی والدہ و ساس کے درمیان ایک عرصے سے خانگی جھگڑے ہورہے تھے زید سخت بیمار ہے ایک روز زید کے برادر خورد نے زید کی والدہ سے کہا کہ اماں یہ جھگڑے ختم نہ ہوں گے ہم اور تم کہیں  چلیں، ان دونوں کو یہاں رہنے دو اور زید کا بھائی اپنی والدہ کو لے جانے لگا، زید نے کہا کہ تم نہ جاؤ میں اس جھگڑے کو ہی ختم کیے دیتا ہوں اور یہ کہہ کر کہا کہ میں نے طلاق دی، یہ الفاظ اپنی والدہ سے مخاطب ہوکر کہے، پھر  اس کے بعد جوش میں آکر صرف طلاق طلاق طلاق پانچ چھ مرتبہ کہا، لیکن اپنی زوجہ کا نام ایک مرتبہ بھی نہیں لیا اور نہ اس سے مخاطب ہوکر کہا اور زید کا خیال بھی یہی تھا کہ صرف لفظ طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہوتی، زوجہ گھر میں موجود تھی، لیکن اس نے الفاظ مذکورہ نہیں سنے۔  

المستفتی  نمبر ۳۱۱ ۔۲۲ صفر ۱۳۵۳؁ھ م ۶ جون ۹۳۴!ء

(جواب ۳۵) زید کے  ان الفاظ میں جو سوال میں مذکور ہیں لفظ طلاق تو صریح ہے، لیکن اضافت الی الزوجہ صریح نہیں ہے، اس لیے اگر زید قسم کھاکر  یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ نہیں کہے تھے تو اس کے قول اور قسم کا اعتبار کرلیا جائے گا،  اور طلاق کا حکم نہیں دیا جائے گا-         محمد کفایت  اللہ کان اللہ  لہ"۔

(کتاب الطلاق، باب الطلاق الصریح، الفصل الثانی فیما یتعلق بترک الاضافۃ فی الطلاق،  ج: 6، ص: 52، ط: دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101099

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں