بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائی کے انتقال کے بعد بھابھی کا وراثت میں سے حصہ


سوال

1۔ہم پانچ بھائی اور ایک بہن تھے .ایک بھائی کا انتقال ہو گیا ڈیڑھ سال پہلے۔ ہماری والدہ حیات ہیں، والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے دس سال پہلے۔ہمارے والد صاحب کی جائیداد میں ہمارے بھائی کی بیوہ کا شرعی حصہ کیا ہوگا جبکہ ہمارے بھائی کی بیوہ دوسری شادی کر رہی ہیں اور اس کے ہاں کوئی اولاد بھی نہیں۔

2۔مزید یہ کہ بڑے بھائی نے ہم سب بھائیوں کو شادی کےموقع پر  زیورات کے سیٹ گفٹ دیےتھے۔مرحوم بھائی کو بھی دیے تھے۔اس کے متعلق شریعت میں کیا حکم ہے ،کیا  زیورات میں بھابھی کا حصہ ہوگا یا نہیں اگر ہے تو کتنا حصہ ہوگا۔جبکہ والدہ بھابھی سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ زیورات ہمیں واپس کر دیں۔

جواب

1۔صورت مسئولہ  میں مرحوم  کے  ترکہ  کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ   میت کے حقوق  متقدمہ  یعنی تجہیز و تکفین  کے اخراجات  نکالنے کےبعد اگر میت پرکوئی  قرض ہو تو کل مال سے  اس کے ادا ئیگی  کے بعد اور اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو  اس کوباقی مال کے  ایک تہائی مال میں نافذ کرنے کے بعد بقیہ  تمام تر منقولہ و غیر منقولہ  ترکہ کو4752حصوں میں تقسیم  کر کے720 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 854حصے مرحوم کے ہر ایک زندہ بیٹے کو،427حصے مرحوم کی اکلوتی بیٹی کو اور189حصے مرحوم  بیٹے  کی بیوہ کو ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ  ہے:

مرحوم والد:8 / 88/     4752

بیوہبیٹا  بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹی
17
1114141414147
594756756756756فوت شدہ 378

مرحوم بیٹا:12 / 108(54)                مافی الید:14(7)

بیوہ ماں بھائیبھائیبھائیبھائیبہن
327
2718141414147
1891269898989849

یعنی سو فیصد میں سے15.151فیصد مرحوم والد کی بیوہ کو،17.971 فیصد مرحوم کےہر ایک زندہ بیٹے  کو،8.985مرحوم کی اکلوتی بیٹی کواور3.977 فیصد مرحوم بیٹے کی بیوہ  کو ملے گا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بھابھی کو  کل  ترکہ کو4752حصوں میں تقسیم  کر کے189حصے ملیں گے۔

2۔صورتِ مسئولہ میں مرحوم بھائی نے اگر اپنی زندگی میں زیورات کاسیٹ اپنی بیوی کو گفٹ کردیا تھا تو ایسی صورت میں مذکورہ زیورات کی ملکیت سائل کی بھابھی کو حاصل ہوگئی تھی،سائل کی والدہ کو مطالبہ کا حق حاصل نہیں۔

الدر المختار ميں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."

(كتاب الهبة، ج : 5، ص: 690، ط: سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط."

(كتاب الهبة،الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز،ج:4،ص:374،ط:دار الفكر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102227

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں