
1۔ہم پانچ بھائی اور ایک بہن تھے .ایک بھائی کا انتقال ہو گیا ڈیڑھ سال پہلے۔ ہماری والدہ حیات ہیں، والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے دس سال پہلے۔ہمارے والد صاحب کی جائیداد میں ہمارے بھائی کی بیوہ کا شرعی حصہ کیا ہوگا جبکہ ہمارے بھائی کی بیوہ دوسری شادی کر رہی ہیں اور اس کے ہاں کوئی اولاد بھی نہیں۔
2۔مزید یہ کہ بڑے بھائی نے ہم سب بھائیوں کو شادی کےموقع پر زیورات کے سیٹ گفٹ دیےتھے۔مرحوم بھائی کو بھی دیے تھے۔اس کے متعلق شریعت میں کیا حکم ہے ،کیا زیورات میں بھابھی کا حصہ ہوگا یا نہیں اگر ہے تو کتنا حصہ ہوگا۔جبکہ والدہ بھابھی سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ زیورات ہمیں واپس کر دیں۔
1۔صورت مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ میت کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کےبعد اگر میت پرکوئی قرض ہو تو کل مال سے اس کے ادا ئیگی کے بعد اور اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کوباقی مال کے ایک تہائی مال میں نافذ کرنے کے بعد بقیہ تمام تر منقولہ و غیر منقولہ ترکہ کو4752حصوں میں تقسیم کر کے720 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 854حصے مرحوم کے ہر ایک زندہ بیٹے کو،427حصے مرحوم کی اکلوتی بیٹی کو اور189حصے مرحوم بیٹے کی بیوہ کو ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے:
مرحوم والد:8 / 88/ 4752
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی |
| 1 | 7 | |||||
| 11 | 14 | 14 | 14 | 14 | 14 | 7 |
| 594 | 756 | 756 | 756 | 756 | فوت شدہ | 378 |
مرحوم بیٹا:12 / 108(54) مافی الید:14(7)
| بیوہ | ماں | بھائی | بھائی | بھائی | بھائی | بہن |
| 3 | 2 | 7 | ||||
| 27 | 18 | 14 | 14 | 14 | 14 | 7 |
| 189 | 126 | 98 | 98 | 98 | 98 | 49 |
یعنی سو فیصد میں سے15.151فیصد مرحوم والد کی بیوہ کو،17.971 فیصد مرحوم کےہر ایک زندہ بیٹے کو،8.985مرحوم کی اکلوتی بیٹی کواور3.977 فیصد مرحوم بیٹے کی بیوہ کو ملے گا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بھابھی کو کل ترکہ کو4752حصوں میں تقسیم کر کے189حصے ملیں گے۔
2۔صورتِ مسئولہ میں مرحوم بھائی نے اگر اپنی زندگی میں زیورات کاسیٹ اپنی بیوی کو گفٹ کردیا تھا تو ایسی صورت میں مذکورہ زیورات کی ملکیت سائل کی بھابھی کو حاصل ہوگئی تھی،سائل کی والدہ کو مطالبہ کا حق حاصل نہیں۔
الدر المختار ميں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."
(كتاب الهبة، ج : 5، ص: 690، ط: سعيد)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط."
(كتاب الهبة،الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز،ج:4،ص:374،ط:دار الفكر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711102227
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن