بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائی کا اپنا حصہ ایک بہن کو ہبہ کرنا


سوال

میری والدہ کے انتقال کے بعد میرا بھائی دوسرے گھر شفٹ ہو گیا، جو اس کا ذاتی گھر ہے، سوال یہ ہے کہ  میرے بھائی کو والدہ کے ترکہ کے گھر میں سے جو حصہ ملے گا کیا وہ اپنی بہن کو ہدیے میں دے سکتا ہے یا نہیں؟ کیوں کہ میری بہن غریب ہے، وہ کرائے کے مکان میں رہتی ہے۔

وضاحت: والدہ کا مکان 45 لاکھ کا فروخت ہوا ہے، بھائی کا ارادہ ہے کہ اپنے حصے میں سے کچھ حصہ خود رکھ لے، بقیہ حصے کی رقم بہن کے حوالے کر دے۔

جواب

صورت مسئولہ میں  آپ کی والدہ کے انتقال ہو جانے کے بعد  ان کے ترکے میں مکان تھا، جو 45 لاکھ کا فروخت ہوا ہے اور آپ کا بھائی اس رقم میں سے اپنا کچھ حصہ خود رکھ کر اپنا بقیہ حصہ  بہن کو دینا چاہتا ہے تو دے سکتا ہے، اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں، اور یہ دینا بہن کے حق میں تبرع اور احسان (نیکی) ہو گا، اجر و ثواب کا باعث ہو گا  اور جو حصہ بہن کو دے گا اس حصے کی مالک بہن بن جائے گی۔

مسند الدارمی میں ہے:

"عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه قال: «‌المسلم ‌إذا ‌أنفق نفقة على أهله وهو يحتسبها، فهي له صدقة»."

(من کتاب الاسئذان، باب فی النفقۃ علی العیال، جلد :3، صفحہ : 1743، طبع : دار المغنی)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مسلمان جب اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور اس میں ثواب کی نیت رکھتا ہے، تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔"

مشکوۃ شریف میں ہے:

"عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: تهادوا فإن الهدية تذهب الضغائن."

(كتاب البيوع، باب العطايا، الفصل الثاني، ج:2، ص:911، رقم:3027، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:"حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں ہدیے تحفے دیا کرو، ہدیے تحفے دلوں کے کینے ختم کر دیتے ہیں۔ "

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"كتاب الهبة ... أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض ... وأما ركنها فقول الواهب: وهبت؛ لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده، والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له ... وأما حكمها فثبوت الملك للموهوب له."

(كتاب الهبة ، الباب الاول، جلد : 4 ، صفحه : 374 ، طبع : دار الفكر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100648

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں