بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 صفر 1448ھ 10 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائیوں کا آپس میں فلیٹ کی تقسیم کے بارے میں کیے ہوئے معاہدے کا حکم


سوال

ہم پانچ بھائی اور تین بہنیں اور ایک والدہ ہیں، ایک بڑے بھائی سعودی عرب میں نوکری کرتے تھے، انہوں نے ایک فلیٹ بک کروایا اور باقی ہم چار بھائیوں نے کہا کہ آپ فلیٹ کی قسطیں ادا کرتے رہیں اور باقی گھر کے سارے خرچے مل کر چلالیں گے، بجلی گیس وغیرہ کا بل بھی ادا کرتے رہیں گے، بس آپ فلیٹ کی قسطیں ادا کرتے رہیں باقی گھر کے اخراجات سے آپ بے فکر ہوجائیں، گھر سب کے لیے مشترکہ خریدا گیا تھا کہ سب مل کر رہیں گے، اور فلیٹ والدہ کے نام لیا گیا تھا، فلیٹ کی قیمت کی ادائیگی سب اس بڑے بھائی نے کی ہے، اور اس کے بدلے میں باقی بھائی بہنوں نے گھر کے اخراجات برداشت کیے ہیں، ہم سب بہن بھائیوں نے مل کر بڑے بھائی کی شادی بھی کرائی، اور بہنوں کی بھی شادی کرائی۔ 

اب مسئلہ یہ ہے کہ بھائی نے کسی عالم سے پتہ کیا ہےکہ گھر آپ کی ملکیت کا ہے، اس پر آپ کے کسی بہن بھائی کا حق نہیں ہے، بھائی نے فلیٹ ایک کروڑ کا بیچ دیا  ہے، اور ہم سب بہن بھائیوں سے کہہ رہے ہیں کہ تیس لاکھ کے حساب سے تم سب پانچ پانچ لاکھ لے لو، جبکہ فلیٹ ایک کروڑ میں بکا ہے۔ 

اب سوال یہ ہے کہ کیا بھائی کی بات صحیح ہے؟ اور کیا مذکورہ رقم میں باقی چار بھائی  تین بہن اور والدہ کا کوئی حصہ ہوگا؟ 

وضاحت: مذکورہ معاهده  میں یہ بات بھی ہوئی تھی کہ جب اس فلیٹ کی قسطیں پوری ہوجائیں گی، تو یہ فلیٹ تمام بہن بھائیوں کا مشترکہ سمجھا جائے گا۔ 

جواب

صورت مسئولہ میں اگرواقعی  سائل کے بھائیوں نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ ایک بھائی مذکورہ فلیٹ کی قسطیں دے گا، اور باقی بہن بھائی گھر کے دیگر اخراجات کا بندوبست کریں گے، اور قسطیں مکمل ہوجانے کے بعد یہ فلیٹ تمام بہن بھائیوں کی مشترکہ ملکیت ہوگا، تو ایسی صورت میں مذکورہ معاہدہ کی وجہ سے مذکورہ فلیٹ شرعاً تمام بہن بھائیوں کی مشترکہ ملکیت ہے، اور بڑے بھائی کو یہ حق نہیں ہے کہ مذکورہ فلیٹ کو بیچ کر اس کی تمام رقم اپنے استعمال میں لائے، بلکہ مذکورہ فلیٹ کی مکمل رقم کو اپنے بہن بھائیوں کے درمیان برابر تقسیم کرنا شرعاً ضروری ہے۔

قرآن مجید میں ہے: 

{وَأَوفُواْ بِٱلعَهدِ إِنَّ العَهدَ كَانَ مَسـُٔولا} سورة الإسراء آیة: 34 

ترجمه:  "اور عہد( مشروع) کو پورا کیا کروبےشک(ایسے) عہد کی باز پرس ہونے والی ہے۔"

(بیان القرآن، ج: 2، ص: 376، ط: مکتبہ رحمانیہ)

صحیح مسلم میں ہے: 

"عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  إذا جمع الله الأولين والآخرين يوم القيامة، يرفع لكل غادر لواء، فقيل: هذه غدرة فلان بن فلان."

(کتاب الجہاد و السیر، باب تحریم الغدر، ج: 2، ص: 83، ط: قدیمي)

ترجمہ:  "حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلے اور پچھلے تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا تو ہر عہد شکن (وعدہ یا امانت توڑنے والے) کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا، اور اعلان کیا جائے گا كه یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔"

مشكوة المصابيح میں ہے: 

"عن أنس رضي الله عنه قال: قلما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: لا إيمان لمن لا أمانة له ولا دين لمن لا عهد له."

(کتاب الإیمان، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 16، ط: رحمانیة)

وفیہ أ یضاً: 

"وعن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أربع من كن فيه كان منافقا خالصا ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها إذا اؤتمن خان وإذا حدث كذب وإذا عاهد غدر وإذا خاصم فجر."

(کتاب الإیمان، باب الکبائر وعلامات النفاق، ج: 1، ص: 18، ط: رحمانیة)

شرح المجلہ میں ہے: 

"لایجوز لأحد أن یتصرف في ملك غیره بلا إذنه أو وکالة منه أو ولایة علیه، وإن فعل کان ضامنًا."

(المادة: 96، ج: 1، ص:61، ، دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم 


فتویٰ نمبر : 144802100990

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں