بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا خلع کا مقدمہ دائر کرنے کا حکم


سوال

میری بیوی نے مجھ پر خلع کا مقدمہ دائر کر دیا ہے،اس کی شرط ہے کہ میں اپنی والدہ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ الگ گھر کا انتظام کر کے رہوں، لیکن میں اپنی والدہ کو نہیں چھوڑ سکتا ،اس لیے کہ میں ایک ہی بھائی ہوں اور میرے والد صاحب کا بھی انتقال ہو چکا ہے،کیا یک طرفہ خلع لینا حرام ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر سائل نے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی بیوی کو اپنے گھر میں سے ایک ایسا کمرہ دیا ہے جس میں  بیوی اور شوہر  کے علاوہ  کسی اور  کا عمل دخل نہیں اورباورچی خانہ ،بیت الخلاء  وغیرہ  کا  بھی انتظام  ہو اوربیوی کی ضروریات کوبھی کافی ہوجائے ،جس میں وہ اپنامال واسباب تالالگاکررکھ سکے، تو سائل نے اپنی شرعی ذمہ داری مکمل کی ہے ، اب بیوی کامستقل الگ رہائش کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے،اور اس بنیاد پر خلع کا مطالبہ کرنا  یا مقدمہ دائر کرنا بھی جائز نہیں ہے ، اور اگر شوہر نے اس طرح کی رہائش یعنی الگ کمرہ ، بیت الخلاء ، باورچی خانہ فراہم نہیں کیا ہو،تو شرعًا شوہر اپنی یہ ذمہ داری مکمل کردے ۔ 

اور بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ شوہر سے بلاوجہ نہ خلع   کا مطالبہ کرے ،نہ ہی شوہر پر مقدمہ دائر کرے،نیزغیر معقول وجہ سے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورت کے لیے حدیث میں وعید وارد ہوئی ہے کہ اس پر جنت کی خوش بو  حرام ہے؛لہذا یک طرفہ خلع شرعا معتبر نہیں ہوتا ،جب تک شوہر خلع دینے پر راضی نہ ہو ،یا خلع کے فیصلے کو  قبول نہ کرلے،تو شرعا خلع درست نہیں ہوگا ،نکاح برقرار رہے گا۔

     سنن أبی داود  میں ہے:

"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقاً في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة»".

( باب الخلع، ج:1،ص:310،ط: حقانیہ)

وفی بدائع الصنائع :

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول...."

(کتاب الطلاق،فصل واماالذی یرجع الی المرأۃ،ج:3،ص:145،ط:رشیدیۃ)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك". 

(الباب السابع عشر في النفقات 1/556، ط: دار الکتاب الاسلامی)

فتاوى شامي میں ہے:

"إن أمكنه أن يجعل لها بيتا على حدة في داره ليس لها غير ذلك."

(مطلب في مسكن الزوجة ،ج:3،ص:601، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144611100951

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں