بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر سے نفرت کا اظہار کرنا


سوال

میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ وہ میرے نام سے بھی نفرت کرتی ہے ،تو کیا اب بھی مجھے اس کے ساتھ رہنا چاہیے؟

جواب

واضح رہےکہ ازدواجی  رشتہ اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک عظیم ترین نعمت ہے،میاں بیوی دونوں کو اس کی قدر کرنی چاہیے،  ازدواجی زندگی کے  پرسکون اور خوش گوار  ہونے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں ،  نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہرکو اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی ہے، چناں چہ ارشاد نبوی ہے:

”تم میں سے بہترین   شخص وہ ہے جو اپنی گھر والوں  کے ساتھ اچھا ہے، اور میں اپنی گھر والوں کے ساتھ تم میں سے سب سے بہتر ہوں۔“

دوسری جانب بیوی کو بھی اپنے شوہر کی اطاعت اور فرماں برداری کا حکم دیا ، ارشاد نبوی ہے:

”  بالفرض اگر میں کسی کو  اللہ کے سواکسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا  کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“

لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو حکمت کےساتھ سمجھائے اور اگر کسی خاص بنیاد پر بیوی شوہر سے پریشان ہو تو شوہر کو چاہیے کہ ان کے اشکالات دور کردے۔بیوی کو بھی چاہیے کہ اگر شوہر کی جانب سے کوئی مسئلہ ہو تو باہمی اتفاق سے اس کو حل کرے، نہ کہ نفرت کا اظہار کرکے آپس میں ناچاقیاں پیداکرے، اگر   خود آپس میں معاملات حل نہ ہوتے ہوں تو خاندان کےبڑوں کےذریعہ مسائل کو  حل کرنے کی کوشش کریں؛ کیوں کہ زوجین کے درمیان اختلافات کا پیدا ہونا بشری تقاضا ہے، شریعت کی تعلیم یہی ہے کہ صبر، حسنِ سلوک اور باہمی گفت و شنید سے ان کا ازالہ کیا جائے۔

لہذا محض بیوی کی اس گفتگو کی بناء پر جدائی اور علیحدگی کی طرف نہیں جانا چاہیے ۔ 

چناں چہ قرآن کریم میں ہے:

‌وَإِنْ ‌خِفْتُمْ ‌شِقاقَ ‌بَيْنِهِما فَابْعَثُوا حَكَماً مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَماً مِنْ أَهْلِها إِنْ يُرِيدا إِصْلاحاً يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُما إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيماً خَبِيراً[النساء:35]

ترجمہ” اور اگر تم (اوپر والوں ) کو ان دونوں (میاں بیوی) میں کشاکش کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو مرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو عورت کے خاندان سے بھیجو اگر ان دونوں آدمیوں کو اصلاح منظور ہوگی تو الله تعالیٰ ان (میاں بی بی) میں اتفاق فرماویں گے بلاشبہ الله تعالیٰ بڑے علم اور بڑے خبر والے ہیں۔“(بیان القرآن)

سنن ترمذی میں ہے:

"1159 - حدثنا محمود بن غيلان قال: حدثنا النضر بن شميل قال: أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد ‌لأمرت ‌المرأة ‌أن ‌تسجد ‌لزوجها".

(أبواب الرضاع، ‌‌باب ما جاء في حق الزوج على المرأة، ج:3، ص:457، ط: مصطفى البابي الحلبي)

وفیہ أیضاً:

3895 - "حدثنا محمد بن يحيى قال: حدثنا محمد بن يوسف قال: حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌خيركم ‌خيركم ‌لأهله وأنا خيركم لأهلي، وإذا مات صاحبكم فدعوه".

(أبواب المناقب، ‌‌باب في فضل أزواج النبي صلى الله عليه وسلم، ج:5، ص:709، ط: مصطفى البابي الحلبي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144701101668

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں