بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، 3 بیٹے اور 6 بیٹیوں میں تقسیم میراث/بہنوں کو ان کا وراثتی حق نہ دینا


سوال

ہمارے والد صاحب کا آج سے تقریباً 14 سال قبل انتقال ہوگیا تھا، ان کی ملکیت میں کراچی نشتر بستی میں ایک پلاٹ تھا، جس پر ابھی بھائیوں نے بلڈنگ بنادی ہے، اور تعمیرات کے وقت کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا، 5 منزلہ بنایا ہے، اور اپنی رہائش کے لیے بنایا تھا، اور سب ورثاء(بہنیں) اس پر خاموش ہوگئی تھیں، والد صاحب کا اس کے علاوہ گاؤں میں ایک مکان محلہ درب خیل میں اور ایک زمین ہے، اور کچھ زمین ترخئی و سپین کئی میں اور ایک عدد مشترکہ بھی مکان ہے، یہ ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگا؟

ورثاء میں:بیوہ، 3 بیٹے اور 6 بیٹیاں، ان میں شرعی طریقے سے میراث تقسیم کر دیں۔

وضاحت:والد کے انتقال کے بعد بیٹوں نے ساری جائیداد اپنے تصرف میں لے لی،بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا،پھر کسی عالم سے معلوم کرنے پر انہوں نے بتایا کہ اس میں بیٹیوں(بہنوں)کا بھی حق ہے،اس لیے ورثاء میں سےبیٹیاں(بہنیں)خاموش رہی تھی،کہ اب نہیں تو بعد میں ہمارا حصہ مل جائے گا،لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی مرحوم کے بیٹوں(بھائیوں)کی طرف سے بیٹیوں(بہنوں) کو ان کا حصہ نہیں دیا گیا۔

جواب

واضح رہے کہ والدین کے ترکہ میں جس طرح ان کی نرینہ اولاد کا حق و حصّہ ہوتا ہے، اسی طرح بیٹیوں کا بھی اس میں شرعی حق و حصّہ ہوتا ہے، اور وہ اپنے حصّے کے تناسب سے مکمل حق دار ہوتی ہیں،ہاں! البتہ بیٹوں کا حصّہ بیٹیوں کے مقابلے میں دوگنا ہوتا ہے،والدین کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ پر بیٹوں کا خود تنِ تنہا قبضہ کر لینا اور بہنوں کو ان کے شرعی حصّے سے محروم کرنا ناجائز اور سخت گناہ ہے،بھائیوں پر لازم ہے کہ بہنوں کو ان کا حق و حصّہ اس دنیا میں دے دیں، ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا، اور آخرت میں دینا آسان نہیں ہوگا۔

احادیثِ مبارکہ میں اس پر بڑی وعیدیں آئی ہیں۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (کسی کی) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالی جائے گی۔

ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ہے: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا (یعنی اس کا حصّہ نہیں دے گا)، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔

صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست ہو تو سائلہ کے بھائیوں نے والد کے مکان پر جو تعمیرات کی تھیں، وہ اگرچہ اپنی رہائش کے لیے کی تھیں، لیکن چوں کہ دوسرے ورثاء یعنی بہنیں اس پر خاموش ہوگئی تھیں، تو اس خاموشی کا مطلب ہرگز رضا مند ہونا نہیں ہے۔

لہٰذا مرحوم والد کے کل ترکہ میں جس طرح بیٹوں کا حق ہے، اسی طرح بیٹیوں کا بھی حق ہے،لہٰذا سائلہ کے بھائیوں کا سائلہ سمیت دوسری بہنوں کو ان کا وراثتی حق نہ دینا ظلم ہے۔

سائلہ کے بھائیوں پر لازم ہے کہ بہنوں کو ان کا حق و حصّہ اس دنیا میں دے دیں، ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا، اور آخرت میں دینا آسان نہیں ہوگا۔

لہٰذا مرحوم والد جو کچھ اپنے پیچھے چھوڑ کر گئے ہیں، وہ سب مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا، اور وہ سب مرحوم کے ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔

سائلہ کے بھائیوں نے جو والد کے ترکہ پر تعمیرات کی ہیں، وہ چوں کہ اپنے لیے کی ہیں، اور اس زمین میں سب ورثاء یعنی بہنوں کا بھی حصّہ ہے، لہٰذا انہوں نے اپنے حصّے کے علاوہ دیگر ورثاء کے حصّے پر جو تعمیر کی ہے، چوں کہ یہ تعمیر ان کی اپنی جگہ پر نہیں، اس لیے دیگر ورثاء سے مفاہمت کی راہ اپنائی جائے؛ یا تو ان کی جگہ مناسب دام پر خرید لیں، یا اپنی تعمیر کے عوض رقم لے کر ان کے حصّے کی عمارت انہیں دے دیں، یا کسی بھی صورت میں مفاہمت کریں،بصورتِ دیگر انہیں اس تعمیر کے بدلے صرف ملبے کی قیمت ملے گی، اور بقیہ کل مالیت ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔

مرحوم والد کی میراث کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ: سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچ نکالا جائے گا، اس کے بعد اگر ان پر کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کیا جائے گا، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کیا جائے گا۔ اس کے بعد بقیہ کل ترکہ کو 96 حصوں میں تقسیم کر کے 12 حصّے بیوہ کو، 14 حصّے ہر ایک بیٹے کو، اور 7 حصّے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے۔

مرحوم والدہ96/8

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
12141414777777

یعنی فیصد کے حساب سے12.5 فیصد بیوہ کو ،14.58 فیصد ہر ایک بیٹے کو ،7.29 فیصد ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

مشکا ۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»."

(کتاب البیوع، باب الغصب و العاریة، ج:2، ص:887، ط:المکتب الاسلامي ۔ بیروت)

و فیه أیضا:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه."

(کتاب الفرائض و الوصایا، باب الوصایا، ج:2، ص:926، ط:المکتب الاسلامي ۔ بیروت)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"الاحتمال الثاني - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا.

الاحتمال الرابع - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة."

(الكتاب العاشر الشركات، الباب الخامس، الفصل الأول في بيان تعمير الأموال المشتركة، ج:3، ص:314/415، ط:دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100283

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں