بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر طلاق کے علیحدہ رہنے سے بیوہ پر عدتِ وفات و میراث کا حکم


سوال

ہمارے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے، انہوں نے شادی کے سات سال بعد سے اپنی بیوی کو ان کی والدہ کے گھر پر چھوڑ دیا تھا، اور بھائی کی گھر والی کہتی تھی کہ میرے والدہ کے گھر کے قریب مکان لو، لیکن بھائی نے نہیں لیا، اسی دوران سولہ سال گزر گئے اور بھائی کا انتقال ہو  گیا، باقی دونوں کے درمیان کوئی لڑائی جھگڑا نہیں تھا اور نہ بھائی نے بھابھی کو طلاق دی، اب میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا میرے بھائی کی وفات کے بعد بھائی کی بیوی ان کی بیوہ شمار ہو گی،ا ور اس کو بھائی کے ترکہ میں سے حصہ ملے گا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائل کے مرحوم بھائی نے اپنی بیوی کو اگر طلاق نہیں دی تھی، ویسے ہی دونوں اتنا عرصہ علیحدہ رہے، تو محض علیحدہ رہنے کی وجہ سے نکاح ختم نہیں ہواتھا، لہذا  بھائی کے انتقال کے بعد ان کی بیوی، ان کی بیوہ شمار ہو گی، اور اس پر عدتِ وفات بھی لازم ہو گی،اسی طرح بیوہ کو مرحوم شوہر کے ترکہ میں سے وراثتی  حصہ بھی ملے گا، (یعنی اگر مرحوم بھائی کی اولاد ہے تو بیوہ کو ترکے کا آٹھواں حصہ ، اور اگر اولاد نہیں تو چوتھا حصہ ملے گا)

مرحوم کے   ترکہ کی تقسیم جاننا اگر مطلوب ہو، تو مرحوم کے ورثاء کی مکمل تعداد بتا کر دوبارہ  معلوم کر لیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية."

(کتاب الطلاق، ص/230، ج/3، ط/سعید)

"شرح مختصر الطحاوی للجصاص"میں ہے:

"(وللمرأة من ميراث زوجها الرّبع إذا لم يكن له ولد، ولا ولد ابنٍ، فإن كان له ولد، أو ولد ابنٍ، وإن سفل: فلها الثمن)؛وذلك لقول الله تعالى: {‌ولهن ‌الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم}".

(شرح مختصر الطحاوي، ‌‌كتاب الفرائض، ‌‌باب قسمة المواريث، مسألة: ميراث الزوجة، ج:4، ص:83-84، ط: دار البشائر الإسلامية)

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر" میں ہے :

"(ويستحق الإرث بنسب ونكاح و ولاء) كما سيأتي مفصلا (ويبدأ بأصحاب الفروض) أي كل صاحب سهم مقدر في الكتاب أو في السنة أو الإجماع كما ذكره السرخسي وتقديمهم على العصبة لقوله - عليه الصلاة والسلام - ألحقوا الفرائض بأهلها فما أبقته فلأولى رجل ذكر."

(کتاب الفرائض، 2/ 747 ، ط: بیروت)

السراجی فی المیراث میں ہے:

" المانع من الارث اربعة : الرق ... و القتل واختلاف الدينيين واختلاف الدارين." 

(السراجي في الميراث، فصل في الموانع ، ص : 5ط: الميزان ، لاهور)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100340

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں