
میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ مرحوم نے کوئی جائیداد نہیں چھوڑی، اور نہ ہی ان کی اولاد کمانے کے قابل ہے۔ اس صورت حال میں چونکہ مرحوم ایک سونار تھے، ان کے ایک کاریگر نے انہیں چار سو گرام سونا دیا تھا۔ اب میرے علم میں یہ بات یقینی نہیں کہ یہ سونا انہوں نے بطور قرض لیا تھا یا کاروبار کے لیے بطور سرمایہ۔ کافی مدت کے بعد اس کاریگر نے اس سونے کا تقاضا مرحوم سے کیا، اور پھر ان کے انتقال کے بعد وہ لوگ میرے پاس آگئے۔ میں نے اللہ کے بھروسے پر ان سے وعدہ کیا کہ مجھ سے جتنا ہوسکے گا، میں ادا کروں گی۔
اب مرحوم کا کارخانہ ہے، جو میرے جیٹھ کے ساتھ مشترک ہے۔ اس میں سے مرحوم کا حصہ نکالنا ہے۔ مزید یہ کہ کسی نے مجھے زکوٰۃ کی رقم ساڑھے تین لاکھ روپے دی تھی، جو میں نے ان کو ادا کر دی ہے۔ اب میرے پاس اور کوئی آسرا نہیں، اور میں بالکل قاصر ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ 2015 میں سونے کا ایک تولہ 45,950 روپے کا تھا۔ اس حساب سے چار سو گرام سونے کی کل قیمت 15,62,300 روپے تھی۔ اب میں نے ان کو ساڑھے تین لاکھ روپے نقد ادا کیے ہیں، اور کارخانے کا تقریباً پانچ لاکھ روپے کا حصہ بھی دوں گی۔ اس حساب سے مرحوم پر اب ساڑھے چھ لاکھ روپے باقی بچتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت (یعنی 2015) کے سونے کی قیمت کے حساب سے میں یہ کل رقم ادا کردوں تو قرض ادا ہوجائے گا؟ یا پھر آج کے سونے کی قیمت کے حساب سے ادائیگی واجب ہوگی؟ میری ماہانہ آمدنی بیس ہزار روپے ہے، اور میں اتنی بڑی رقم کی ادائیگی سے بالکل قاصر ہوں۔ براہ کرم اس صورت حال میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مرحوم شوہر کے ترکے سے قرضے ادا ہورہے ہوں تو ان قرضوں کی ادائیگی ورثاء پر لازم ہے۔ لیکن اگر مرحوم نے کوئی مال نہ چھوڑا ہو تو ورثاء پر اس قرض کی ادائیگی واجب نہیں۔ البتہ اگر سائلہ (بیوہ) مرحوم شوہر کے سونے کا قرضہ اپنی خوشی سے ادا کرنا چاہے تو یہ جائز ہے، اور جب بھی ادا کرے گی، اس وقت کے سونے کی قیمت کے مطابق ادا کرنا لازم ہوگا، 2015 کی قیمت کے مطابق نہیں۔
اگر بیوہ نے قرضہ ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس وقت ان کے پاس استطاعت نہیں ہے، تو ایسی صورت میں اگر وہ اپنا وعدہ پورا نہ کرسکیں تو شرعاً ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
شرح المشکاۃ للطیبی میں ہے :
"وعن أنس رضي الله عنه، قال: قلما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: (لاإيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له). رواه البيهقي و (شعب الإيمان).
(مظ): معنى (لا دين لمن لا عهد له) أن من جرة بينه وبين أحد عهد وميثاق، ثم غدر من غير عذر شرعي _ فدينه ناقص، أما مع العذر كنقص الإمام المعاهدة مع الحربي إذا رأى المصلحة _ فإنه جائز."
(کتاب الایمان، ج:2، ص:492، ط:مكتبة نزار مصطفى الباز)
فتاوی شامی میں ہے:
"فإن الديون تقضى بأمثالها فيثبت للمديون بذمة الدائن مثل ما للدائن بذمته فيلتقيان قصاصًا."
(كتاب الشركة، مطلب في قبول قوله دفعت المال بعد موت الشريك أو الموكل،ج:4،ص:320، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100691
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن