
ہمارے بہنوئی کا انتقال ہوا، ان کے بعد ہماری بہن کا انتقال ہوا، ان کی کوئی اولاد نہیں ہے، شوہر کے انتقال کے وقت ان کے والدین حیات نہیں تھے، ان کے وارثوں میں ایک بیوہ اور دو بہنیں تھیں، تین تایا کے بیٹے حیات ہیں، پہلے فتوی لیا تھا اس میں بہنوئی کی میراث کی تقسیم معلوم ہو گئی، اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ہماری بہن کا ترکہ ہم والدہ اور چار بہنوں کو ملے گا، ہماری بہن کا ہمارے علاوہ کوئی وارث نہیں ہے، کوئی عصبہ بھی نہیں۔
اب سوال صرف یہ ہے کہ شوہر کے انتقال کے بعد ان کے ترکے میں بیوہ کا کتنا حصہ ہو گا؟ بہنوئی والے ہم سے یہ بات پوچھ رہے ہیں۔
شوہر کے انتقال کی صورت میں اگر اولاد نہ ہو تو بیوہ کا حصہ چوتھائی ہوتا ہے، یعنی: 25 فیصد۔
سراجی فی المیراث میں ہے:
"احوال الزوجات، اما للزوجات فحالتان: الربع للواحدة فصاعدا عند عدم الولد اوولد الابن وان سفل، والثمن مع الولد او ولد الابن وان سفل."
(فصل في النساء، صفحه: 18، طبع: بشريٰ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101997
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن