بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ دو بیٹے اور تین بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم


سوال

میرے والد صاحب  کا انتقال ہوگیا ہے، والد صاحب کا ایک مکان تھا جو انہوں نے اپنی بیوی یعنی میری والدہ کے نام پر کردیا تھا، البتہ والد صاحب  وفات تک اسی گھر میں رہائش پزیر  رہے، والدہ چاہتی ہیں کہ اپنی زندگی میں ہی بچوں کو حصہ دے دوں، والد صاحب کے ورثاء میں  تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں، جس میں سے ایک بیٹے کا انتقال والد صاحب کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا،اُن کی بیوی کا نکاح میرے چھوٹے بھائی سے ہوچکا ہے،ہمارا مکان 56 لاکھ میں فروخت ہوا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ ہر ایک وارث کا کتنا حصہ ہوگا ؟ اور کس حساب سے تقسیم ہوگی ؟

جواب

صورت مسئولہ میں والد صاحب نے  جو مکان اپنی بیوی یعنی سائل کی والدہ کے نام پر کیا تھا اس میں گفٹ کی شرائط مکمل نہ ہونے کی وجہ سے  مذکورہ مکان  سائل کی والدہ کی ملکیت میں داخل نہیں ہوا، والد صاحب کی ملکیت    برقرار  رہی ،والد صاحب کے انتقال کے بعد مذکورہ مکان ترکہ کہلائے گا ، اور والد صاحب کے وفات کے وقت موجود تمام ورثاءشرعی حصہ کےا عتبار  سے اس میں حق دار ہیں۔

صورت ِ مسئولہ میں مرحوم  کے ترکہ کی تقسیم  کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحو م کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر  مرحوم  پر کوئی  قرضہ ہے، تو اسےادا کرنے کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اس کو باقی  ترکہ کے ایک  تہائی  سے پوراکرنے کے بعد، مابقیہ کل ترکہ  منقولہ وغیر منقولہ کو  8   حصوں پر تقسیم کر کے  1حصہ مرحوم کی بیوہ کو، 2  حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو، اور 1حصے مرحوم کی  ہر  ایک بیٹی کو ملےگا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت والد مرحوم : 8

بیوہبیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی
122111

یعنی قیمت  5600000کے اعتبار سے بیوہ کو  700000 روپے، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو  1400000 روپے، اور ہر ایک بیٹی کو 700000 روپے ملیں گے۔

المحیط البرھانی میں ہے :

"قال محمد رحمه الله في "الأصل" : لا تجوز الهبة إلا محوزة مقسومة مقبوضة يستوي فيها الأجنبي والولد إذا كان بالغاً، وقوله لا يجوز: لا يتم الحكم."

(کتاب الھبة، ‌‌الفصل الثاني: فيما يجوز في الهبة وما لا يجوز، ج : 6، ص : 238، ط : دار الکتب العلمیة)

وفیہ ایضاً:

"وعن أبي يوسف لا يجوز للرجل أن يهب لامرأته، أو أن تهب لزوجها ولأجنبي دارا وهما فيها ساكنان، كذلك الهبة للولد الكبير؛ لأن الواهب إذا كان في الدار فيده بائن على الدار، وذلك يمنع تمام يد الموهوب له، قال: ولو وهبها لابنه الصغير وهو ساكن فيها يعني الواهب جاز وقد مر."

(كتاب الهبة والصدقة، الفصل الخامس: في الرجوع في الهبة، 6 / 250، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101891

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں