بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1444ھ 18 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوہ ،پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں میں میراث کی تقسیم


سوال

والد کی وفات کے بعد پانچ بیٹے ، دو بیٹیاں اور ایک بیوہ ہیں، بارہ مرلے کا مکان کیسے تقسیم ہوگا؟

جواب

صورت مسؤلہ میں مرحوم  کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ  یہ  ہے کہسب سے پہلے مرحوم  کے حقوق متقدمہ، یعنی تجہیز و تکفین (کفن ، دفن)کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی  قرض ہو تو اسے باقی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد اگر مرحوم   نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی  حصے میں سے نافذ کرنےکےبعد باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو    ۹۶  حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم     کی بیوہ کو ۱۲ حصے ،مرحوم کے ہر بیٹے کو   ۱۴  حصے اور ہر بیٹی کو ۷ حصے ملیں گے ۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت:۸ / ۹۶ 
بیوہ بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹی بیٹی 
۱۷
۱۲۱۴۱۴۱۴۱۴۱۴۷۷

یعنی 100 روپے میں 12.50 روپے ،ہر بیٹے کو 14.583 روپے اور ہر بیٹی کو 7.291 روپے ملیں گے ۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101464

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں