بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 صفر 1448ھ 30 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ،دو بیٹے دو بیٹیاں میراث کی تقسیم


سوال

ہمارا گھر ہمارے والد مرحوم کے نام ہے، ہم دو بھائی دو بہنیں اور والدہ ہیں اور ایک  پھوپھی ہیں،  مجھے وراثت کی تقسیم کے بارے میں پوچھنا ہے کہ پھوپھی کا حصہ ہوگا یا نہیں ؟ ہوگا تو کتنے فیصد ہوگا گھر کی کل قیمت 60 لاکھ کے قریب ہے، والد صاحب کے والدین ان سے  پہلے انتقال کر چکے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  والد مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  مرحوم  کے ترکہ میں سے اس کے حقوقِ متقدمہ  یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، مرحوم کے ذمہ اگر کوئی قرض ہو تو  اسے  ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، مرحوم نے  اگر کوئی  جائز   وصیت کی ہو، تو   اسے ایک  تہائی ترکہ میں  نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ  کل ترکہ  منقولہ وغیرمنقولہ  کو 48 حصوں میں تقسیم کرکے  6 حصے مرحوم کی بیوہ کو ، 14،14 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو، اور 7، 7 حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے،مذکورہ گھر کے اگر آپ کے والد مرحوم تنہا مالک تھے تو مرحومہ کی بہن(آپ کی پھوپھی)کا آپ کے والد کی جائیداد میں شرعاً حصہ نہیں ہے۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت: 48/8

بیوہبیٹابیٹابیٹیبیٹی
17
6141477

یعنی   کل ترکہ 60  لاکھ   روپے میں سے 750000  روپے    مرحوم کی بیوہ کو، 1750000 روپے  ہر ایک بیٹے کو، 875000  روپے   ہر ایک بیٹی کو ملیں گے ۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801102522

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں