بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ،ایک بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں میراث کی تقسیم


سوال

میرے والد صاحب کا انتقال ہوا ،ان کے ورثاء میں ایک بیوہ ،ایک بیٹا (سائل) اور پانچ بیٹیاں ہیں ،والد صاحب کے ترکہ میں کس کا کتنا حصہ ہے ؟

والد صاحب کے والدین پہلے انتقال کر چکے تھے۔

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کے مرحوم والد کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ    سب سے پہلے مرحوم کے حقوق ِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد،پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد ،باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو8 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو ایک حصہ، بیٹے کو 2 حصے اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ ملےگا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے :

میت:8

بیوہبیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
1211111

یعنی 100 روپے میں سے مرحوم کی بیوہ کو 12.50 روپے،بیٹے کو 25 روپے اور ہر بیٹی کو 12.50 روپے  ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102419

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں