
میں نے ایک بیوہ سےدوسری شادی کی ہے، اس کے ساتھ سابقہ شوہر سے تین بچے بھی تھے، ایک بیٹی اور دو بیٹے ، اس وقت وہ بچے تھے، ان میں اب ایک بچی اور بچہ بالغ ہوگئے ہیں، تو میرے لیے کیا حکم ہے کیا میں ان کو اپنے بالغ بچوں کے ساتھ رکھوں یا علیحدہ گھر میں رکھ لوں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کی دوسری بیوی کے وہ بچے جو سابقہ شوہر سے ہیں، ان کا سائل کے ان بچوں سے جو پہلی بیوی سے ہیں، شرعا ً پردہ لازم ہے، اگر ان کا آپس میں محرمیت کا کوئی اور رشتہ نہ ہو تو یہ ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہوں گے، لہذا سائل ان کی رہائش کی ترتیب الگ بنالے ، اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو کم ازکم اسی گھر میں آپس میں پردہ کا اہتمام کروادے،یا ان کا باہم نکاح جائز ہو تو نکاح کرادیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا (إلى الرأس والوجه والصدر والساق والعضد إن أمن شهوته) وشهوتها أيضا ذكره في الهداية فمن قصره على الأول فقد قصر ابن كمال (وإلا لا، لا إلى الظهر والبطن) خلافا للشافعي (والفخذ) وأصله قوله تعالى - {ولا يبدين زينتهن إلا لبعولتهن} [النور: 31]- الآية وتلك المذكورات مواضع الزينة بخلاف الظهر."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، 367/6، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"(قوله: وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال) وكذا بنت ابنها بحر."
(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، 31/3، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100771
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن