بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو وقفہ وقفہ سے ایک دو تین طلاق کہنا


سوال

میری بیوی کے ساتھ کسی بات پر ناچا قی ہو گئی ہے،  میں نے اپنی بیوی کو ڈرانے اور چپ کرانے کے لیے روٹی کا بیلن اٹھایا اور مارنے  کے بجائے لفظ ”ایک “  کہا،  اس کے بعد میں ایک ڈیڑھ منٹ تک خاموش رہا تاکہ بیوی ڈر جائے اور خاموش ہو جائے،  لیکن بیوی بولتی رہی،  میں نے پھر لفظ ”دو“  کہا،  اس کے بعد پھر ایک ڈیڑھ منٹ کا وقفہ کیا ہے،  لیکن بیوی خاموش نہ رہی،  میں نے پھر لفظ ”تین“  کہا،  اس کے بعد پھر میں ایک ڈیڑھ منٹ تک خاموش رہا،  بیوی خاموش نہیں ہو رہی تھی،  میں نے پھر لفظ ”طلاق“ کہا،  اس لفظ کے کہتے وقت میری طلاق کے کوئی نیت نہیں تھی،  صرف ڈرانا اور خاموش کرانا مقصود تھا،  سوال یہ ہے کہ ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی؟ اگر ہاں تو  کتنی طلاقیں واقعی ہوئی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل نے جو اپنی بیوی کو وقفہ ، وقفہ سے ایک، دو اور تین کہا، اس کے بعد تقریباً ڈیڑھ منٹ خاموش رہا  اور اس کے بعد  بیوی کو ” طلاق “ کہا تو اس  سے سائل کی بیوی پر  صرف ایک طلاق ِ رجعی واقع ہوگئی ہے،  وقفہ وقفہ سے ایک دو تین کہنا لغو شمار ہوگا، اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی، لہذا اب سائل کو اپنی بیوی کی  عدت (مکمل تین ماہ واریاں اگر حمل نہ ہو اور حمل کی صورت میں وضع حمل تک)  میں رجوع کا حق ہے، اگر عدت کے دوران  رجوع کرلیا  دونوں کا نکاح برقرار رہے گا، اور  رجوع کا بہتر  طریقہ یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کو  زبان سے کہہ دے کہ : ”میں نے رجوع کرلیا“ ،اس سےرجوع ہوجائے گا اوراس رجوع  پر  دو گواہ بنالینا   مستحب ہے۔

 اگر  بیوی کی عدت میں رجوع نہیں کیا  یعنی  طلاق کے بعد  عدت کی تیسری ماہ واری گزرگئی تو اس صورت میں   دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا، مطلقہ  دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

 اس کے بعد  اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے  دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں  نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے  رہ سکتے ہیں ،    اگر شوہر نے اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو تورجوع یا تجدید نکاح کے بعد   آئندہ کے لیے شوہر کو دو  طلاقوں   کا حق حاصل ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(قال لها أنت طالق إن شاء الله متصلا) إلا لتنفس...الخ

(قوله: متصلا) احتراز عن المنفصل، بأن وجد بين اللفظين فاصل من سكوت بلا ضرورة تنفس ونحوه أو من كلام لغو كما يأتي وقيد في الفتح السكوت بالكثير. مطلب قال أنت طالق وسكت ثم قال ثلاثا تقع واحدة.  وفي الخانية قال لزوجته أنت طالق وسكت ثم قال ثلاثا، إن كان سكوته لانقطاع النفس تطلهطق ثلاثا وإلا تقع واحدة. وفي أيمان البزازية: أخذه الوالي وقال بالله فقال مثله، ثم قال لتأتين يوم الجمعة فقال الرجل مثله فلم يأت لم يحنث لأنه بالحكاية والسكوت صار فاصلا بين اسم الله تعالى وحلفه، وكذا فيما لو كان الحلف بالطلاق. اهـ. (قوله إلا لتنفس) أي وإن كان له منه بد، بخلاف ما لو سكت قدر النفس ثم استثنى لا يصح الاستثناء للفصل، كذا في الفتح. فعلم أن السكوت قدر النفس بلا تنفس كثير وأن السكوت للتنفس ولو بلا ضرورة عفو."

(كتاب الطلاق، باب التعليق، 3/ 366، ط: سعيد)

وفیہ أیضاً:

"وركنه لفظ مخصوص.

(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.  وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره."

 (كتاب الطلاق، 3 / 230، ط: سعيد)

وفيه أيضا:

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب."

(كتاب الطلاق، باب الرجعة، 3/ 409، ط: سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100485

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں