بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس کی بیٹی سے نکاح کرنا


سوال

میری والدہ کی پہلی شادی ہوئی تھی، اس سے ان کی اولاد ایک  بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں،پھر ان کے شوہر یعنی میرے والد نے ان کو تین طلاقیں دے دیں، اس کے بعد ان کی عدت مکمل ہوگئی اور  میری والدہ نے دوسری شادی  کرلی، اس سے ان کی ایک بیٹی ہوئی،  پھر اس دوسرے شوہر نے بھی 20 سال بعد میری والدہ کو طلاق دے دی اور  طلاق  کے ایک مہینہ بعد  میری سگی بہن کو بھگاکر لے گیا اور اس سے نکاح کرلیا ، آیا ان کا نکاح درست ہوا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی  ایسی عورت سے نکاح کرے جس کی  سابقہ شوہر سے بیٹی ہو، اور نکاح  کے بعد   اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرلے تو اس شخص کے لیے ، اس کی بیوی  کی بیٹی  ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے، بیوی کے انتقال یا طلاق کے بعد بھی اس سے نکاح جائز نہیں ہوتا۔

لہذا صورت مسئولہ میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق    سائل کی والدہ کے دوسرے شوہر کااپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد ، اس کی سابقہ شوہر سے ہونے والی بیٹی  (سائل کی بہن) سے نکاح ناجائز اور حرام ہے، اگر نکاح کرلیا ہو تو یہ نکاح درست نہیں ہوا، ان پر فی الفور علیحدگی  اور توبہ واستغفار لازم ہے۔

قرآن مجید میں  ہے:

"حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ  ۡ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ."[النساء : 23]

ترجمہ :"تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں  اور تمہاری بہنیں  اور تمہاری پھوپھیاں  اور تمہاری خالائیں  اور بھتیجیاں اور بھانجیاں  اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے (یعنی انا) اور تمہاری وہ بہنیں جو دودھ پینے کی وجہ سے ہیں  اور تمہاری بیبیوں کی مائیں  اور تمہاری بیٹیوں کی بیٹیاں جو کہ تمہاری پرورش میں رہتی ہیں ان بیبیوں سے کہ جن کے ساتھ تم نے صحبت کی ہو  اور اگر تم نے ان بیبیوں سے صحبت نہ کی ہو تو تم کو کوئی گناہ نہیں۔"(بیان القرآن)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(القسم الثاني المحرمات بالصهرية) . وهي أربع فرق (والثانية) بنات الزوجة وبنات أولادها وإن سفلن بشرط الدخول بالأم."

(كتاب النكاح ، الباب الثالث في المحرمات 1/ 274 ،ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702101119

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں