
ایک شخص جس کا تعلّق اسماعیلی فرقے سے ہے اور نمازیں اہل السنۃ والجماعۃ کی مساجد میں ادا کرتا ہے، باقی تمام اعمال خود اور گھر والے جماعت خانہ میں ادا کرتے ہیں تو یہ شخص اگر کسی اہل سنت والجماعت مسجد یا مدرسہ سے تعاون کرے یا کسی استاد کو تنخواہ دے یا کسی امام کو ہدیہ دے تو کیا اس شخص کا مال مسجد ومدرسہ میں استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر اسماعیلی فرقہ سے تعلق رکھنے والا حلال رقم سے مسجد، مدرسہ میں تعاون کرے یا امام مسجد کو ہدیہ وغیرہ دے اور اس کے تعاون مسلمانوں کو کسی قسم کے دینی یا دنیوی نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو اس کو قبول کرنا جائز ہے۔
البحرالرائق میں ہے:
"وأما الإسلام فليس من شرطه فصح وقف الذمي بشرط كونه قربة عندنا وعندهم."
(كتاب الوقف، شرائط الوقف، ج:5، ص:204، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی رشیدیہ میں ہے :
”تعمیر ومرمت مسجد میں شیعہ وکافر کا روپیہ لگانا درست ہے۔“
(کتاب الوقف، مساجد کے احکام، تعمیر مسجد کے لیے کافر سے چندہ وصول کرنا، ص 534، ط: عالمی مجلس تحفظ اسلام)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
”سوال: کسی غیر مسلم کا روپیہ مسجد کی عمارت میں صرف کرنا کیسا ہے؟
الجواب حامداً ومصلیاً:
اگر کوئی غیر مسلم مسجد میں روپیہ وغیرہ دے اور بنیتِ حصولِ ثواب یعنی اس کو عبادت سمجھ کر تو شرعاً اس کا مسجد میں لینا درست ہے، اور اگر کوئی اور مانع ہو مثلاً: اس روپیہ کی وجہ سے کسی فتنہ کا اندیشہ ہو، یا اہلِ اسلام اور اہلِ مسجد پر احسان سمجھ کر دے، یا احسان کا اظہار کرے وغیرہ وغیرہ تو اَمرِ آخر ہے، اس لیے بہتر صورت یہ ہے کہ وہ روپیہ کسی مسلم کو دیدے اور پھر وہ مقروض یا دیگر مسلم اس روپیہ کو مسجد میں دیدے اور اس روپیہ کو تعمیر ِ مسجد میں خرچ کرنا درست ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اَعلم۔“
(کتاب الوقف، باب احکام المسجد، مسجد کے لیے چندہ جمع کرنے کا بیان، ج:15، ص:139، ط:ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اَعلم
فتویٰ نمبر : 144704100907
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن