
میری بیوی مجھے نازیبا کلمات کہتی رہتی ہے اور گھٹیا اور غلیظ قسم کے الفاظ استعمال کرتی ہے، شروع شروع میں میرے بچے چھوٹے تھے، اولاد کی خاطر میں نے یہ سب برداشت کیا ، اس اندیشہ سے کہ کہیں اولاد دربدر نہ ہوجائے، اب میرے بچے بڑے ہوگئے ہیں، لیکن میری بیوی کا رویہ میرے ساتھ مسلسل بدتمیزی والا ہے، مجھے میری اولاد کی تربیت اور تعلیم کے حوالہ سے کافی پریشانی ہے، شریعت مطہرہ میں اپنی نافرمان بیوی سے الگ ہونے کے حوالہ سے کیا حکم ہے؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعہ کے مطابق اور درست ہے تو بیوی کا یہ رویہ اور طرز عمل شرعا جائز نہیں ہے، بیوی پر جائز امور میں شوہر کی اطاعت اور فرمانبرادی لازم ہے، شوہروں کے حقوق سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کو یہ نصیحت فرمائی کہ : ” اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“ اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے: ”جس عورت نے (اپنی پاکی کے دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی، رمضان کے روزے (ادا اور قضا) رکھے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی اور اپنے خاوند کی فرماں برداری کی تو (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہےکہ) وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے“۔
لہذا سائل کی بیوی کا شوہر سے بدزبانی اور بد کلامی کرنا ناجائز اور حرام ہے، بیوی پر لازم ہے کہ اپنے اس عمل پر توبہ اور استغفار کرے اور شوہر سے بھی معافی مانگے، نیز آئندہ کے لیے بھی بیوی کو چاہیے کہ وہ جائز امور میں شوہر کی اطاعت کرے، شوہر کو تنگ کر کے اذیت نہ پہنچائے، بلکہ شوہر کو راحت پہنچانے کے لیے ہر طرح سے اس کا خیال رکھنے کی کوشش کرے اور اس کی مرضی یا مزاج کے خلاف کوئی کام نہ کرے، نیز شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ بھی بیوی کے حقوق کی رعایت اور اس کی ضروریات کا خیال رکھے، اور دونوں باہم محبت واتفاق سے رہنے کی کوشش کریں، لیکن اگر تمام تر کوششوں اور نصائح کے باوجود بیوی باز نہیں آتی تو اس صورت میں سائل( شوہر ) چاہے تو بیوی کو طلاق دے سکتا ہے، اس صورت میں اس پر کوئی ملامت نہیں ہوگی۔
طلاق دینے کابہترطریقہ یہ ہے کہ بیوی کو ایسے طہر(پاکی کے زمانہ) میں صرف ایک طلاق ِ رجعی دے جس میں بیوی سے ازدواجی تعلق قائم نہ کیا ہو۔ اور ایک طلاق دینے کے بعد اگر تعلقات بہتر ہوتے ہیں اور بیوی توبہ تائب ہوجاتی ہے تو عدت کے دوران رجوع بھی کیا جاسکتا ہے ،اس کے بعد دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکیں گے،اگر عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے سے ہی نکاح ختم ہوجائے گا، تاہم اگر اس کے بعد میاں بیوی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح بھی ہوسکتا ہے،اور رجوع یا تجدید نکاح دونوں صورت میں آئندہ کے لیے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔
حدیث مبارک میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحداً أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها» . رواه الترمذي."
(مشکاۃ المصابیح، باب عشرۃ النساء، 2/ 281، ط: قدیمی)
ایک اور حدیث مبارک میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي أبواب الجنة شاءت» . رواه أبو نعيم في الحلية."
(مشکاۃ المصابیح، باب عشرۃ النساء، 2/ 281، ط: قدیمی)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وعليها أن تطيعه في نفسها، وتحفظ غيبته؛ ولأن الله عز وجل أمر بتأديبهن بالهجر والضرب عند عدم طاعتهن، ونهى عن طاعتهن بقوله عز وجل {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] ، فدل أن التأديب كان لترك الطاعة، فيدل على لزوم طاعتهن الأزواج."
(کتاب النکاح، فصل وجوب طاعة الزوج الخ، 334/2، ط: سعید)
الدر المختار میں ہے :
"(وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر،وقولهم الأصل فيه الحظر، معناه أن الشارع ترك هذا الأصل فأباحه، بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية، ومفاده أن لا إثم بمعاشرة من لا تصلي ويجب لو فات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا."
(كتاب الطلاق، 3 / 227، 229، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710100324
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن