بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو لڑائی میں طلاق طلاق طلاق کہنا


سوال

میں رات کو کمرے سے باہر سویا ہوا تھا، تین بجے  کمرے میں آیا، موبائل چارج پر لگایا اور  بیوی کے ساتھ کچھ بحث ومباحثہ اور شور شرابہ ہوا، تو میں نےاسےکہا : طلاق، طلاق، طلاق، تیری مجھے ضرورت نہیں ہے، زندگی  بھر مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔ اب اس معاملہ میں شرعی حکم کیا ہے؟ طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟  ہمارے  ایک ساتھ رہنے کی صورت  کیا ہے، جب کہ ہمارے دو بچے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائل نے جو اپنی    بیوی کو جھگڑے کے دوران یہ الفاظ  کہے کہ :  ”  طلاق، طلاق، طلاق، تیری مجھے ضرورت نہیں ہے“ تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، دونوں کا     نکاح ختم ہوگیا ہے،  سائل  کی بیوی  اس  پر  حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے،  اب  سائل   کے لیے رجوع کرنا یا دوبارہ  نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔مطلّقہ  اپنی عدت (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور حمل کی صورت میں بچہ کی ولادت  تک ) مکمل کرکے  آزاد و خود مختار ہو گی ،  دوسری جگہ نکاح  کرنا چاہے تو کرسکے گی۔

 البتہ  اگر مطلّقہ بیوی عدت گزارنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرلے، پھر وہ  دوسرا شخص اس سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد از خود  طلاق یا خلع  دے دے، یا شوہر کا انتقال ہوجائے، اور  اس کی  عدت گزار لے، تو پھر  سائل   کے لیے مذکورہ  خاتون سےدوبارہ  نکاح کرنا جائز ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(کتاب الطلاق،  فصل في حكم الطلاق البائن، 3/ 187، ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100396

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں