
میری بیوی نے میری والدہ پر ہاتھ اٹھایا تو میں نے غصے میں آکر تین مرتبہ یک بارگی اس کو یہ الفاظ کہے کہ : ”میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی“ ، اب پوچھنا یہ ہے کہ ان الفاظ سے طلاق ہوئی یا نہیں ؟اگر ہوئی تو کتنی ہوئیں؟ اور دوبارہ ساتھ ملنا چاہتے ہیں تو اس کا کیا حل ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو غصہ میں جو یہ الفاظ کہے کہ : ”میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی“ تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، دونوں کا نکاح ختم ہوگیا ہے، سائل کی بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب شوہر (سائل) کے لیے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔مطلّقہ اپنی عدت (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور حمل کی صورت میں بچہ کی ولادت تک ) مکمل کرکے وہ آزاد و خود مختار ہو گی ،چاہے تو دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
البتہ اگر مطلّقہ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے اور پھر وہ دوسرا شخص اس سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد از خود طلاق دے دے یا عورت خود طلاق لے لے یا شوہر کا انتقال ہوجائے تو پھر اس کی عدت گزار کر پہلے شوہر سےدوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"و ذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث."
(کتاب الطلاق، 3 / 233، ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، 3/ 187، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100306
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن