بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو آپ میری طرف سے 70 فیصد آزاد ہو کہنا


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی سے فون پر تلخ کلامی کے بعد یہ کہا  کہ :” آپ میری طرف سے 70٪ آزاد ہو، اپنا سامان بھی واپس لے جاؤ، جہاں چاہو شادی کرو“،  جہیز کا سامان بھی میں لے کر دوں گا، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر واقعۃً مذكوره شخص نے اپنی بيوی کو یہ الفاظ کہے ہیں  کہ : ” آپ میری طرف سے 70٪ آزاد ہو، اپنا سامان بھی واپس لے جاؤ، جہاں چاہو شادی کرو“ تو اس سے اس کی بیوی پر   ایک طلاقِ  بائن واقع ہوگئی، اور دونوں کا  نکاح ختم ہوگیا ہے، مطلقہ پر   عدّت ( مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک)  گزارنا لازم ہے، عدت مکمل ہونے کے بعد دوسری جگہ نکاح  کرنا چاہے تو  کرسکتی ہے، البتہ اگر  دونوں میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو   کسی بھی وقت  دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح کرکے رہ سکتے ہیں، اور  آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاقوں  کا حق حاصل ہوگا،بشرط یہ کہ اس سے پہلے شوہر نے کوئی اور طلاق نہ دی ہو۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(وإذا أضاف الطلاق إليها) كأنت طالق (أو) إلى (ما يعبر به عنها كالرقبة والعنق .. (أو) أضافه (إلى جزء شائع منها) كنصفها وثلثها إلى عشرها (وقع) لعدم تجزئه.

(قوله: كنصفها وثلثها إلى عشرها) وكذا لو أضافه إلى جزء من ألف جزء منها كما في الخانية لأن الجزء الشائع محل لسائر التصرفات كالبيع وغيره هداية قال ط (إلا أنه يتجزأ في غير الطلاق) . وقال شيخي زاده: أنه يقع في ذلك الجزء ثم يسري إلى الكل لشيوعه فيقع في الكل (قوله لعدم تجزئه) علة لقوله أو إلى جزء شائع منها، ط."

(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، 3/ 256، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"وكونه التحق بالصريح للعرف لاينافي وقوع البائن به، فإن الصريح قد يقع به البائن كتطليقة شديدة ونحوه: كما أن بعض الكنايات قد يقع به الرجعي، مثل اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة.

والحاصل أنه لما تعورف به الطلاق صار معناه تحريم الزوجة، وتحريمها لا يكون إلا بالبائن، هذا غاية ما ظهر لي في هذا المقام، وعليه فلا حاجة إلى ما أجاب به في البزازية من أن المتعارف به إيقاع البائن، لما علمت مما يرد عليه، والله سبحانه وتعالى أعلم".

(كتاب الطلاق، باب الکنایات، 3/ 300، ط: سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے: 

"فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضاً حتى لايحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولايجري اللعان بينهما ولايجري التوارث ولايحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية." 

(كتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، 3/ 187، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144603101925

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں