بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی طلاق کی قسم میں عرفی معنی کے علاوہ کوئی اور نیت کرنا


سوال

ایک شخص نے اپنے بھائیوں کے ساتھ نزاع و تنازع کی حالت میں یہ الفاظ کہے:  ”اگر میں نے آپ کے ساتھ کھایا تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہوں“،   اس شخص نے ان الفاظ سے مراد بھائیوں کے ساتھ ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھانا لیا اور ایک ہفتے تک ان کے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہوا،  بلكه ابھی تک اس نے بھائیوں کے ساتھ کھانا نہیں کھایا۔

بعد ازاں استفسار پر اسے معلوم ہوا کہ ان الفاظ کا عمومی عرف میں مفہوم بھائیوں کے ساتھ رہن سہن اور میل جول ترک کرنا لیا جاتا ہے،  اس کے باوجود وہ شخص اس مدت میں ایک ہفتے تک اپنے بھائیوں کے ساتھ رہا، لیکن جس وقت  اس نے مذکورہ الفاظ کہے تھے  اس وقت اس کو یہ عرف معلوم نہیں تھا اور نہ ہی اس طرح کی نیت تھی۔

اب درج ذیل امور وضاحت طلب ہیں:

1:  کیا مذکورہ الفاظ کا عرف و استعمال میں مصداق واقعی رہن سہن ہے یا صرف کھانے کے ساتھ مخصوص ہے ؟

2: اگر واقعی ان الفاظ سے عرفارہن سہن مراد ہو، تو کیا اس ایک ہفتے کے دوران بھائیوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہوں گی یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ  قسم کا  دار ومدار  ”الفاظ عرفیہ“ پر ہے،  یعنی قسم کھانے والے نے  جو الفاظ  کہے  ان الفاظ سے اگر عرفاً کوئی معنی مراد  ہو اور  قسم کھانے والے نے کوئی نیت نہ کی ہو ،تو اس سے وہی عرفی معنی مراد ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ متعارف معنی ہے، اور اگر   قسم کھانے والے نے  ان الفاظ سے  کوئی خاص نیت کی ہو  تو پھر دیکھا جائے گا کہ قسم کے الفاظ  میں اس نیت کا احتمال ہے یا نہیں؟  اگر اس نیت کا احتمال موجود ہوگا تو  قسم کا مدار اس کی نیت پر ہوتا ہے، اور اگر ان الفاظ میں  اس نیت کا احتمال ہی نہ ہو تو پھر مدار عرف پر ہی ہوتا ہے، اور نیت لغو شمار ہوتی ہے۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے اپنے بھائیوں کے ساتھ تنازع میں   جو یہ الفاظ کہے  تھے کہ:  ”اگر میں نے آپ کے ساتھ کھایا تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہوں“ ،اور  ان الفاظ سے اس کی  مراد بھائیوں کے ساتھ ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھانا تھا اور  یہی اس کی نیت تھی، جب کہ اس وقت اس کے ذہن میں یہ بھی نہیں تھا کہ  اس کا عرف میں کوئی اور معنی بھی مراد لیا جاتا  ہے، تو ایسی صورت میں اس کی نیت کا اعتبار ہوگا، اس لیے کہ مذکورہ الفاظ میں اس کی نیت کا احتمال موجود ہے اور یہ اس کا حقیقی معنی ہے، لہذا    اس کی  بیوی کی طلاق، اس کے اپنے بھائیوں کے   ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھانے پر معلّق ہوگی، اگر وہ ان کے ساتھ  ایک پلیٹ میں کھانا کھالے گا تو بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی، اور اگر ساتھ کھانا نہیں کھائے گا  تو محض ایک ساتھ رہائش اختیار کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

باقی ان الفاظ سے عرف   میں یہ معنی مراد لیا جاتا ہے، لیکن  حقیقی معنی کا استعمال بھی موجود ہے، اس لیے اگر قرینہ نہ ہو  تو لفظ کو حقیقی معنی پر محمول کیا جائے گا جب کہ حالف کی نیت بھی حقیقی معنی کی ہو۔

نیز اگر سائل اپنی قسم ختم کرنا چاہتا ہو، تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دے دے، اور جب عدت ختم ہوجائے، پھر اپنے بھائیوں کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھالے، اس طرح کرنے سے اس کی یمین پوری ہوجائے گی، اور نکاح برقرار نہ رہنے کی وجہ سے تین طلاقیں واقع نہیں ہوں گی،  اس کے بعد سائل اپنی مذکورہ خاتون سے نیا مہر مقرر کرکے  دوبارہ  نکاح کرلے، تجدید نکاح کے بعد سائل کے پاس صرف دو طلاق دینے کا حق ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"الأصل أن الأيمان مبنية عند الشافعي على الحقيقة اللغوية، وعند مالك على الاستعمال القرآني، وعند أحمد على النية، وعندنا على العرف ما لم ينو ما يحتمله اللفظ فلا حنث في لا يهدم إلا بالنية فتح. (الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأغراض.

(قوله وعندنا على العرف) لأن المتكلم إنما يتكلم بالكلام العرفي أعني الألفاظ التي يراد بها معانيها التي وضعت لها في العرف كما أن العربي حال كونه بين أهل اللغة إنما يتكلم بالحقائق اللغوية فوجب صرف ألفاظ المتكلم إلى ما عهد أنه المراد بها فتح. (قوله: فلا حنث إلخ) ... إذ لا شك أن المتكلم لا يتكلم إلا بالعرف الذي به التخاطب سواء كان عرف اللغة إن كان من أهلها، أو غيرها إن كان من غيرهم نعم ما وقع مشتركا بين اللغة والعرف تعتبر فيه اللغة أنها العرف فأما الفرع المذكور، فالوجه فيه إن كان نواه في عموم قوله بيتا حنث وإن لم يخطر له فلا لانصراف الكلام إلى المتعارف عند إطلاق لفظ بيت فظهر أن مرادنا بانصراف الكلام إلى العرف إذا لم تكن له نية، وإن كان له نية شيء واللفظ يحتمله انعقد اليمين باعتباره اهـ وتبعه في البحر وغيره.

مبحث مهم في تحقيق قولهم: الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأغراض.

(قوله: الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ) أي الألفاظ العرفية بقرينة ما قبله واحترز به عن القول ببنائها على عرف اللغة أو عرف القرآن ففي حلفه لا يركب دابة ولا يجلس على وتد، لا يحنث بركوبه إنسانا وجلوسه على جبل وإن كان الأول في عرف اللغة دابة، والثاني في القرآن وتدا كما سيأتي وقوله: لا على الأغراض أي المقاصد والنيات، احترز به عن القول ببنائها على النية. فصار الحاصل أن المعتبر إنما هو اللفظ العرفي المسمى، وأما غرض الحالف فإن كان مدلول اللفظ المسمى اعتبر وإن كان زائدا على اللفظ فلا يعتبر، ولهذا قال في تلخيص الجامع الكبير وبالعرف يخص ولا يزاد حتى خص الرأس بما يكبس ولم يرد الملك في تعليق طلاق الأجنبية بالدخول اهـ ومعناه أن اللفظ إذا كان عاما يجوز تخصيصه بالعرف كما لو حلف لا يأكل رأسا فإنه في العرف اسم لما يكبس في التنور ويباع في الأسواق، وهو رأس الغنم دون رأس العصفور ونحوه، فالغرض العرفي يخصص عمومه، فإذا أطلق ينصرف إلى المتعارف، بخلاف الخارجة عن اللفظ كما لو قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق، فإنه يلغو ولا تصح إرادة الملك أي إن دخلت وأنت في نكاحي وإن كان هو المتعارف لأن ذلك غير مذكور، ودلالة العرف لا تأثير لها في جعل غير الملفوظ ملفوظا."

(كتاب الأيمان، 3 / 743، ط: سعيد)

وفيه  أيضا:

"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقاً) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدةً، ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها."

(کتاب الطلاق،باب التعلیق، 3 /355، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144701100761

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں