
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں :
ایک شخص پر اس کی بیوی نے یہ الزام لگایا کہ میرے شوہر کے میری ماں (یعنی اپنی ساس ) کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں اور کوئی گواہ وغیرہ موجود نہیں ہے، ایک ریکارڈنگ ہے،جس میں شوہر سے بار بار اس بارے میں بیوی نے پوچھا کہ کیا تم نے میری والدہ کے ساتھ بدکاری کی ہے ، شوہر باربار انکار کرتا رہا ، آخر میں تنگ آکر بیوی کی بات پر سختی سے کہا کہ ہاں کی ہے ،پھر اس نے پوچھا کہ کہا ہے؟تو شوہرنے محض بیوی کو چپ کرانے کے لیے غصہ میں بوس وکنار کا ذکر کیا، جب کہ وہ (شوہر ) اور ساس دونوں قسم کھا رہے ہیں کہ ہمارا یسا کوئی تعلق نہ تھا، نہ ہے ،اور نہ ہم اس کا تصور کرسکتے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں جب کہ لڑکا اور اس کی ساس انکاری ہیں اور قسم کھانے کے لیے تیار ہیں اور لڑکی (بیوی) کے پاس سوائے اسریکارڈنگ کے اور کچھ موجود نہیں ، اور شوہر اس ریکارڈنگ کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ غصہ دلانے پر میں نے یہ الفاظ اپنی بیوی کو کہے ہیں، اس طرح کا کوئی خیال بھی دل میں نہیں آیا ۔
اور بیوی بھی اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ شوہر اور والدہ کے درمیان ایسا کچھ نہیں ہوا ، غصہ کی وجہ سے میں نے شوہر سے اس طرح کے الفاظ کہے تھے اور غصہ میں اس نے اس بات کا اعتراف کیا تھا ۔ایسی صورت میں کیا میاں بیوی کانکاح قائم ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاـ مذکورہ شخص کی بیوی نے اپنے شوہر سے یہ پوچھا تھاکہ کیا تم نے میری والدہ کے ساتھ بدکاری ہے اور شوہر انکار کرتا رہا،بیوی کے بار بار اکسانے پر شوہر نے تنگ آکر کہا کہ"ہاں کی ہے"بیوی کے پوچھنے پر بوس وکنار کا ذکر کیااور اب بیو ی بھی تصدیق کرتی ہے کہ شوہر اور ساس کے درمیان ایسا کچھ نہیں ہواتو مذکورہ شخص کے غصے میں کہے ہوئے الفاظ کا اعتبار نہیں،لہذا میاں بیوی کا نکاح بدستور قائم ہے،تاہم میاں بیوی کو چاہیے کہ اس طرح کے جملے کہنے سے اجتناب کریں،آپس کےلڑائی جھگڑوں میں مقدس رشتوں کی بے حرمتی نہ کریں۔
فتاوی شامی میں ہے:
(وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هي"
(قوله: وإن ادعت الشهوة في تقبيله) أي ادعت الزوجة أنه قبل أحد أصولها أو فروعها بشهوة أو أن أحد أصولها أو فروعها قبله بشهوة، فهو مصدر مضاف إلى فاعله أو مفعوله وكذا قوله: أو تقبيلها ابنه، فإن كانت إضافته إلى المفعول فابنه فاعل والأنسب لنظم الكلام إضافة الأول لفاعله والثاني لمفعوله ليكون فاعل يقوم الرجل أو ابنه كما أفاده ح (قوله: فهو مضاف) لأنه ينكر ثبوت الحرمة والقول للمنكر، وهذا ذكره في الذخيرة في المس لا في التقبيل كما فعل الشارح فإنه مخالف لما مشى عليه المصنف أو لا من أنه في التقبيل يفتى بالحرمة ما لم يظهر عدم الشهوة"
(کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ج:3، ص:37، ط،سعید)
شرح المجلہ میں ہے:
"يشترط في الإقرار (أولا) رضاء المقر (ثانيا) عدم وجود التلجئة والمواضعة فلذلك لا يصح، ولا ينفذ الإقرار الواقع بالجبر والإكراه راجع المادة"
"يشترط أن لا يكذب ظاهر الحال الإقرار بناء عليه إذا أقر الصغير الذي لم تتحمل جثته البلوغ بقوله: بلغت لا يصح إقراره، ولا يعتبر) يشترط أن لا يكذب ظاهر الحال والشرع الإقرار.
فإذا كذبه أحدهما فلا يعتبر"
(الکتاب الثالث عشر الاقرار،الباب الاول فی شروط الاقرار، ج:4، ص:91، ط:دار الجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101474
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن