بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر میکے جانے اور وہاں رہنے کا حکم


سوال

کیا بیوی شوہر  کی اجازت کے بغیر اپنی میکے جا سکتی ہے؟ اور شوہر  کی اجازت کے بغیر بیوی میکے میں شوہر کے اجازت دیے ہوئے دنوں سے زیادہ رک سکتی ہے ؟

جواب

بیوی کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، ایسی خاتون کےبارےمیں حدیث میں وعید آئی ہے، حدیث شریف میں ہے کہ  ایک خاتون  نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ : شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : شوہر کا حق  اس پر یہ ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو آسمان کے فرشتہ اور رحمت وعذاب کے فرشتہ  اس پر لعنت بھیجیں گے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔

بصورتِ مسئولہ بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر  گھر سےنکلنا اور اپنےمیکے جانا جائز نہیں، اور  اپنے میکےمیں شوہر کے بتائے ہوئے دنوں سے زیادہ رکنا بھی جائز نہیں، اگر  اپنے شوہر کےبتائے ہوئے دنوں سے زیادہ دن شوہر  کی اجازت کے بغیر رکے گی تو  از روئے شرع نافرمان ہوگی اور شوہر کے ذمہ نفقہ بھی نہیں ہوگا۔ البتہ شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہفتے میں ایک مرتبہ بیوی کے والدین سے اور سال میں کم از کم ایک مرتبہ اس کے محارم سے اس کی ملاقات کی اجازت دے، خواہ خود لے جاکر ملاقات کرائے یا اپنی اجازت سے بھیجے یا بیوی کے والدین کو اپنے گھر ملاقات کا موقع دے۔ میاں بیوی کا رشتہ قانون سے زیادہ اخلاق سے چلتا اور پائیدار رہتاہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھروالوں (بیوی) کے ساتھ اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تم سب سے زیادہ اچھا (سلوک کرنے والا) ہوں۔

حدیث شریف میں ہے:
"وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما أن امرأة من خثعم أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله! أخبرني ما حق الزوج على الزوجة؟؛ فإني امرأة أيم فإن استطعت وإلا جلست أيماً! قال: فإن حق الزوج على زوجته إن سألها نفسها وهي على ظهر قتب أن لا تمنعه نفسها، ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تصوم تطوعاً إلا بإذنه فإن فعلت جاعت وعطشت ولا يقبل منها، ولا تخرج من بيتها إلا بإذنه فإن فعلت لعنتها ملائكة السماء وملائكة الرحمة وملائكة العذاب حتى ترجع، قالت: لا جرم ولا أتزوج أبداً". رواه الطبراني". (الترغيب والترهيب للمنذري (3/ 37)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولیس لها أن تخرج بلا إذنه أصلًا". (ردالمحتار علی الدرالمختار، ج:3، ص:146، ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"لانفقة لأحد عشر ... وخارجة من بیته بغیر حق و هي الناشزة حتی تعود". (ردالمحتار علی الدر المختار، ج:3، ص:575، ط:ایچ ایم سعید) فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144111200169

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں