بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کامال اس کی اجازت کےبغیراستعمال کرنےکاحکم


سوال

بیوی کامال اس کی اجازت کےبغیراستعمال کرناحرام ہےیانہیں؟

جواب

واضح رہےکہ کسی کامال اس کی اجازت کےبغیراستعمال کرناحرام ہے،دوسرےکامال استعمال کرنےکی اجازت صرف اس وقت ہےجب مالک اجازت دے،یادیگرقرائن سےمعلوم ہوکہ اس کوناگواری نہ ہوگی،اس وقت اس کےاستعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسنداحمدمیں ہے:

"حدثنا أبو سعيدمولى بني هاشم،حدثنا سليمان بن بلال، عن سهيل بن أبي صالح،عن عبد الرحمن بن سعيدعن أبي حميد الساعدي،أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:لا يحل لامرئ أن يأخذ مال أخيه بغيرحقه" وذلك لما حرم الله مال المسلم على المسلم.

وقال عبيد بن أبي قرة: حدثنا سليمان،حدثني سهيل،حدثني عبد الرحمن بن سعيد، عن أبي حميد الساعدي،أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" لا يحل للرجل أن يأخذ عصا أخيه بغير طيب نفسه " وذلك لشدة ما حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم من مال المسلم على المسلم."

(رقم الحديث:23605،ج:39،ص:19،ط:مؤسسة الرسالة)

نخب الافکار،شرح معانی الآثار میں ہے:

"حدثنا ربيع الجيزي، قال: ثنا أصبغ بن الفرج، قال: ثنا حاتم بن إسماعيل قال: ثنا عبد الملك بن الحسن، عن عبد الرحمن بن أبي سعيد، عن عمارة ابن حارثة، عن عمرو بن يثربي، قال: "خطبنا رسول الله عليه السلام فقال: لا يحل لامرئ من مال أخيه شيء إلا بطيب نفس منه، قال: قلت: يا رسول الله إن لقيتُ غنم ابن عمي، آخذ منها شيئًا؟ فقال: إن لقيتها نعجة تخمل شفرة وزنادًا بخبت الجميش فلا تهجها".ش: إسناده حسن جيد."

(كتاب الكراهيه،باب الرجل يمربحائط أ له ان ياكل  منه ام لا،ج:3،ص:244،ط:وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية - قطر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144509102303

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں