
میری بیوی کے ایک بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ورثاء میں بیوہ، والدہ ، ایک بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، مرحوم کی کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی، لیکن انہوں نے اپنی ایک بہن گود لے لی تھی اور وہ قانونی اعتبار سے ان کی بیٹی ہے، کیوں کہ بے فارم میں والد کے نام کی جگہ ان کا نام درج ہے، اب سوال یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا؟ کیا گود لی ہوئی بیٹی کو ترکہ میں حصہ ملے گا؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی کے مرحوم بھائی کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ترکہ میں سے اس کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو، تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اور اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اسے باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی سے پورا کرکے باقی کل منقولہ وغیر منقولہ ترکہ کو 12 حصوں میں تقسیم کرکے 3 حصے بیوہ کو، 2 حصے والدہ کو، 2 حصے مرحوم کے بھائی کو اور ایک ، ایک حصہ اس کی ہر ایک بہن کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
12
| بیوہ | والدہ | بھائی | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن |
| 3 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی 100 فیصد میں 25 فیصدبیوہ کو، 16.66 فیصد والدہ کو، 16.66 فیصدمرحوم کے بھائی کو اور8.33 فیصد کرکے اس کی ہر ایک بہن کو ملے گا۔
باقی شریعتِ مطہرہ نے وارث بننے کا مدار قرابت یعنی نسبی رشتہ داری پر رکھا ہے،اور منہ بولے بچے سےنسبی رشتہ داری قائم نہیں ہوتی؛ لہذا منہ بولا بچہ اپنے حقیقی والد کا تو وارث بنتا ہے، لیکن جس شخص نے اس کو گود لیا ہے اس کے ترکہ میں اس کا اولاد ہونے کی حیثیت سے حق وحصہ نہیں ہوتا۔
تفسیر مظہری میں ہے:
"وَما جَعَلَ الله أَدْعِياءَكُمْ اى الذين تبنيتهم جمع دعى... أَبْناءَكُمْ فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك."
(سورة الأحزاب :33، آية: 5، 7/ 283، ط: مكتبة الرشدية - الباكستان)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101147
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن