
میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے، جبکہ والدہ کا انتقال والد کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا۔ والد نے وراثت میں ایک ٹرک چھوڑا تھا۔ ورثاء میں ہم تین بھائی، پانچ بہنیں اور ایک بیوہ (سوتیلی والدہ) شامل ہیں۔
میرے بڑے بھائی نے یہ ٹرک، دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر، 64 لاکھ روپے میں فروخت کر دیا ہے۔ اس رقم میں سے اُس نے 30 لاکھ روپے سوتیلی والدہ کو دیے، اور دو بہنوں کو صرف ڈیڑھ، ڈیڑھ لاکھ روپے دیے۔ باقی 31 لاکھ روپے بھائی نے اپنے پاس رکھ لیے ہیں۔ وہ کہہ رہا ہے کہ اس میں سے ایک بھائی کو صرف چار لاکھ روپے دے گا، اور مجھے (سائل کو) کچھ بھی نہیں دے رہا۔
اب سوال یہ ہے کہ 64 لاکھ روپے کی یہ وراثتی رقم تمام ورثاء — یعنی بیوہ، تین بھائی اور پانچ بہنوں — میں کس طرح تقسیم ہوگی؟
اس کے علاوہ، بڑے بھائی نے مذکورہ ٹرک دو سال تک استعمال کیا، اور اس دوران حاصل ہونے والا منافع بھی اپنے ذاتی استعمال میں لاتا رہا۔ ہم بھائیوں کو اس منافع میں سے کچھ بھی نہیں دیا گیا۔
کیا میرے بھائی کے لیے شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں، والد مرحوم کے ترکہ میں سےکہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ ادا کیے جائیں گے، یعنی: - تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو قرض کو کل مال سے ادا کرنے کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو، اسے باقی ماندہ مال کے ایک تہائی حصے سے نافذ کرنے کے بعد ۔ باقی ماندہ رقم کو 88 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا:- مرحوم کی بیوہ کو 11 حصے، - ہر بیٹے کو 14،14 حصے، - اور ہر بیٹی کو 7،7 حصے دیے جائیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہوگی:
میت(والد)88/8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | |||||||
| 11 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 | 7 | 7 | 7 |
یعنی 64 لاکھ روپے میں سے: - 8 لاکھ روپے بیوہ کو، - 10,18,181 روپے ہر بیٹے کو، اور 5,09,090 روپے ہر بیٹی کو ملیں گے۔
2)واضح رہے کہ جس طرح وراثتی ٹرک تمام ورثاء کے درمیان مشترک ملکیت تھا، اسی طرح اس ٹرک کی آمدنی بھی تمام ورثاء کے درمیان مشترک ہے۔اور تمام ورثاء اس کے منافع میں اپنے اپنے شرعی حصوں کے تناسب سے حق دار ہیں۔
لہٰذا، ایک بھائی کا اُس ٹرک سے حاصل ہونے والے منافع کواکیلے اپنے ذاتی استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں تھا۔ بلکہ تمام ورثاء کا حق تھا،اس پر لازم ہےکہ وہ علی الحساب تمام ورثاء کے حصے کی رقم ادا کردےورنہ آخرت میں دینا ہوگا اور آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما، انظر المادة (1308) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة؛ لأن الغنم بالغرم بموجب المادة (88) "
(الكتاب العاشر الشركات،الباب الأول في بيان شركة الملك،(الفصل الثاني) في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، ج:3، ص:26، ط:دار الجیل)
تحفۃ الفقہاء میں ہے:
"الشركة الأملاك على ضربين أحدهما ما كان بفعلهما مثل أن يشتريا أو يوهب لهما أو يوصى لهما فيقبلا، والآخر بغير فعلهما وهو أن يرثا، والحكم في الفصلين واحد وهو أن الملك مشترك بينهما وكل واحد منهما في نصيب شريكه كالأجنبي لا يجوز له التصرف فيه إلا بإذنه."
( كتاب الشركة، ج:3، ص:5، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101971
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن