
میرا بھائی شادی شدہ تھا، لیکن اس کی کوئی اولاد نہیں تھی، اس کا انتقال 2018 میں ہوا، اور میری ایک بہن تھی جس کا انتقال بھائی سے پہلے 2016 میں ہوا تھا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ میرے بھائی کی وراثت میں میری اس مذکورہ بہن کے بچوں کا حق بنتا ہے؟ بہن کے بچے اس کا مطالبہ کررہے ہیں۔ نیز بھائی کے ورثاء میں بیوہ ، تین بھائی اور ایک بہن زندہ ہے، والدین کا انتقال پہلے ہوچکا ہے، اولاد کوئی نہیں ہے، وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟
میت کی وفات کے وقت اس کے جو ورثاء زندہ ہوتے ہیں ، وہ میت کے وارث بنتے ہیں ، اور ان کو ترکہ میں سے حصہ ملتا ہے، اور جن اقرباء کا انتقال میت کے انتقال سے پہلے ہوجائے تو وہ وارث نہیں بنتے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی جس بہن کا انتقال 2016 میں ہوا ہے ، اس کا اپنے مرحوم بھائی (جس کا انتقال 2018 میں ہوا ہے) کے ترکہ میں بطور میراث کوئی حق و حصہ نہیں ہے، اس لیے مذکورہ مرحومہ بہن کے بچوں کا اپنے ماموں کی میراث میں حصہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، تاہم اگرتمام ورثاء عاقل، بالغ ہیں اور مرحومہ بہن کی اولاد کو اپنی رضامندی سے ترکے میں سے یا کوئی عاقل بالغ وارث اپنے حصہ میں سے ان کو کچھ دینا چاہے تویہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا اور اس کا ثواب ملے گا۔
باقی سائل کے مرحوم بھائی کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ترکہ میں اس کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ، اگر اس کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعد، اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسےباقی مال کے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرکے باقی کل منقولہ وغیر منقولہ ترکہ کو 28 حصوں میں تقسیم کرکے 7 حصے بیوہ کو، 6،6 حصے ہر ایک بھائی کو اور 3 حصے(زندہ) بہن کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت: 4 / 28
| بیوہ | بھائی | بھائی | بھائی | بہن |
| 1 | 3 | |||
| 7 | 6 | 6 | 6 | 3 |
یعنی 100 فیصد میں سے 25 فیصدبیوہ کو، 21.428 فیصد کرکے ہر ایک بھائی کو اور10.714 فیصد (زندہ) بہن کو ملے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث."
(كتاب الفرائض، 6/ 469، ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144703101097
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن